پاکستان کی 10 بلند ترین عمارات: تصاویر کے ساتھ

تحریر و ریسرچ: ادارہ اردو ڈیسک ڈاٹ کام
کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان میں عمودی تعمیرات (High-Rise Development) کے ایک نئے اور جدید دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ زمین کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، شہروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضرورت اور جدید کارپوریٹ کلچر کی وجہ سے ملک کے بڑے شہروں بالخصوص کراچی، اسلام آباد اور اب لاہور میں بلند و بالا عمارات (Skyscrapers) کی تعمیر کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ یہ عمارات نہ صرف پاکستان کی معاشی ترقی اور جدید طرزِ زندگی کی علامت بن رہی ہیں، بلکہ غیر ملکی اور سمندر پار پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے بھی توجہ کا مرکز ہیں۔
رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے ماہرین اور مستند تحقیقی رپورٹس کی روشنی میں، اس وقت پاکستان کی 10 بلند ترین اور نمایاں عمارات کی مکمل تفصیلات، ان کی خصوصیات اور مستقبل کے عظیم ترین منصوبوں پر مبنی تفصیلی رپورٹ درج ذیل ہے:
پاکستان کی 10 بلند ترین اور معروف عمارات کی تفصیلی فہرست
1. بحریہ آئیکون ٹاور (کلفٹن، کراچی) — 300 میٹر

بلندی: 300 میٹر (984 فٹ)
منزلیں: 62 منزلیں
حیثیت: پاکستان کی موجودہ بلند ترین عمارت
تفصیل: کراچی کے ساحلی اور پوش علاقے کلفٹن میں واقع بحریہ آئیکون ٹاور پاکستان کی اسکائی لائن کا سب سے بڑا شاہکار ہے۔ بحریہ ٹاؤن گروپ کی ملکیت یہ عمارت جنوبی ایشیا کی بلند ترین عمارات میں بھی شمار ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک 42 منزلہ دوسرا ٹاور بھی قائم ہے۔ اس مکسڈ یوز کمپلیکس میں عالمی معیار کے کارپوریٹ دفاتر، انتہائی پرتعیش رہائشی اپارٹمنٹس، پاکستان کا بلند ترین ٹیرس ریسٹورنٹ اور 8 منزلوں پر پھیلا ہوا ایک شاندار شاپنگ مال شامل ہے۔
2. چپال اسکائی مارک (کراچی) — 210 میٹر

بلندی: 210 میٹر (689 فٹ)
منزلیں: 50 منزلیں
حیثیت: پاکستان کا بلند ترین رہائشی ٹاور
تفصیل: چپال ڈویلپرز کی جانب سے تعمیر کردہ یہ عمارت کراچی میں پرتعیش اور جدید طرزِ زندگی کی نئی تعریف متعین کر رہی ہے۔ یہ خاص طور پر صرف رہائشی مقصد (Residential) کے لیے بنایا گیا پاکستان کا بلند ترین اسکائی اسکریپر ہے۔ اس کی لوکیشن شہر کے بہترین ہوٹلوں، ہسپتالوں اور شاپنگ سینٹرز کے قریب ہے۔ اس کے تمام اپارٹمنٹس کارنر فیسنگ (Corner-Facing) بالکنیوں کے ساتھ ڈیزائن کیے گئے ہیں، جہاں سے کراچی شہر کا دلکش نظارہ دیکھا جا سکتا ہے۔
3. ڈولمین سٹی ٹاورز (کلفٹن، کراچی) — 150 میٹر

بلندی: 150 میٹر (492 فٹ)
منزلیں: 40 منزلیں (ٹاور A اور ٹاور B)
حیثیت: کمرشل اور کارپوریٹ ہب
تفصیل: کلفٹن کے خوبصورت ساحل پر واقع ڈولمین سٹی پاکستان کے کامیاب ترین مکسڈ یوز منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ مجموعی طور پر چار ٹاورز (ٹاور اے، ٹاور بی، ہاربر فرنٹ اور ایگزیکٹو ٹاور) پر مشتمل ہے۔ اس کے نچلے حصے میں پاکستان کا مشہور ترین "ڈولمین مال” واقع ہے جس میں 130 سے زائد بین الاقوامی اور مقامی برانڈز موجود ہیں۔ اس کے ٹاور اے اور ٹاور بی 150 میٹر بلند ہیں، جو پاکستان کے کارپوریٹ اشرافیہ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہیڈ کوارٹرز کے لیے پہلی پسند سمجھے جاتے ہیں۔
4. سمٹ ٹاور (کلفٹن، کراچی) — 132 میٹر

بلندی: 132 میٹر (433 فٹ)
منزلیں: 38 منزلیں
حیثیت: جدید تعمیراتی شاہکار
تفصیل: کلفٹن کراچی میں واقع یہ عمارت جدید فنِ تعمیر کا ایک بہترین نمونہ ہے، جس میں شیشے، اسٹیل اور کنکریٹ کا شاندار امتزاج استعمال کیا گیا ہے۔ سال 2014ء میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ 2017ء میں مکمل ہوا۔ یہ عمارت رہائشی اپارٹمنٹس، کاروباری دفاتر، ریٹیل شاپس اور وسیع پارکنگ ایریا پر مشتمل ہے اور اپنی بہترین لوکیشن کی وجہ سے تجارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
5. اوشین ٹاورز (کلفٹن، کراچی) — 120 میٹر

بلندی: 120 میٹر (394 فٹ)
منزلیں: 28 منزلیں (زمین سے اوپر) اور 5 زیرِ زمین منزلیں
حیثیت: شاپنگ مال اور کمرشل ٹاور
تفصیل: کلفٹن کے مصروف ترین تجارتی مرکز میں واقع یہ اسکائی اسکریپر "اوشین مال” اور کارپوریٹ دفاتر کی وجہ سے مشہور ہے۔ پہلے یہ منصوبہ ایک بین الاقوامی ہوٹل کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے کمرشل ٹاور میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ عمارت اپنی ہائی ٹیک ٹیکنالوجی، خودکار بجلی کے پاور پلانٹ، اور جدید ترین ہیٹ اینڈ اسموک مانیٹرنگ (دھواں اور تپش معلوم کرنے والے) نظام کی وجہ سے انتہائی محفوظ اور جدید مانی جاتی ہے۔
6. سینٹورس مال (اسلام آباد) — 116 میٹر

بلندی: 116 میٹر (381 فٹ)
منزلیں: 32 منزلیں
حیثیت: وفاقی دارالحکومت کی پہچان
تفصیل: اسلام آباد کے مرکز میں واقع "دی سینٹورس” تین جڑواں ٹاورز پر مشتمل ایک شاندار مکسڈ یوز پراجیکٹ ہے، جسے برطانیہ کی مشہور تعمیراتی فرم "WS Atkins” نے ڈیزائن کیا ہے۔ اس کمپلیکس میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل، پریمیم اپارٹمنٹس، کارپوریٹ دفاتر اور 4 منزلہ شاندار شاپنگ مال شامل ہے جس میں 250 سے زائد دکانیں، ایک جدید سینما (Cineplex) اور فوڈ کورٹ موجود ہے۔ یہ اسلام آباد میں سیاحت اور خریداری کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
7. ایم سی بی ٹاور (کراچی) — 116 میٹر

بلندی: 116 میٹر (381 فٹ)
منزلیں: 29 منزلیں اور 3 بیسمنٹس
حیثیت: تاریخی فنانشل ہیڈ کوارٹر
تفصیل: کراچی کے کاروباری دل "آئی آئی چندریگر روڈ” پر واقع ایم سی بی ٹاور پاکستان کی تعمیراتی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ارشد شاہ عبداللہ کے ڈیزائن کردہ اس ٹاور کی تعمیر 2000ء میں شروع ہوئی اور 2005ء میں مکمل ہوئی۔ یہ عمارت 2005ء سے 2012ء تک پاکستان کی بلند ترین عمارت کا اعزاز برقرار رکھ چکی ہے اور طویل عرصے تک مسلم کمرشل بینک (MCB) کے مرکزی ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔
8. یوفون ٹاور (بلیو ایریا، اسلام آباد) — 113 میٹر

بلندی: 113 میٹر (371 فٹ)
منزلیں: 24 منزلیں
حیثیت: ٹیلی کام انڈسٹری کا مرکز
تفصیل: اسلام آباد کے کاروباری مرکز "بلیو ایریا” (جناح ایونیو) پر واقع یوفون ٹاور دارالحکومت کی نمایاں ترین عمارات میں سے ایک ہے۔ یہ ٹاور بنیادی طور پر پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر کی ضروریات اور جدید کارپوریٹ نیٹ ورکنگ کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ اپنے منفرد اور جدید شیشے کے ڈیزائن کی وجہ سے یہ دور سے ہی توجہ حاصل کر لیتا ہے۔
9. لاہور اسکائی (قصور روڈ، لاہور) — 107 میٹر

بلندی: 107 میٹر (350 فٹ)
منزلیں: مکسڈ ہائی رائز ٹاورز
حیثیت: لاہور کا بلند ترین منظور شدہ منصوبہ
تفصیل: لاہور کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو جدید رنگ دینے والا یہ منصوبہ قصور روڈ پر واقع ہے، جس کے تحت 6 ٹاورز تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ یہ منصوبہ پاکستان کی اسپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی (STZA) اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) سے منظور شدہ ہے۔ اس منصوبے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں پاکستان کا پہلا ڈائریکٹ فیکٹری آؤٹ لیٹ (DFO) اور ایک خوبصورت مصنوعی واٹر فال (Waterfall) بنایا جا رہا ہے، جو رہائشیوں اور کارپوریٹ اداروں کو یکساں سہولیات فراہم کرے گا۔
10. حبیب بینک پلازہ (آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی) — 105 میٹر

بلندی: 105 میٹر (344 فٹ)
منزلیں: 24 منزلیں
حیثیت: پاکستان کی تاریخی اور پہلی ہائی رائز عمارت
تفصیل: سال 1963ء میں تعمیر ہونے والا حبیب بینک (HBL) پلازہ پاکستان کی تعمیراتی تاریخ کا ایک لیجنڈ ہے۔ یہ عمارت نہ صرف پاکستان بلکہ تقریباً 40 سال (چار دہائیوں) تک پورے جنوبی ایشیا کی بلند ترین عمارت رہی ہے۔ اپنی مضبوطی اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے یہ آج بھی کراچی کے مالیاتی مرکز کی ایک اہم ترین علامت ہے۔
مستقبل کا سب سے بڑا دھماکہ: ڈی ایچ اے کراچی میں "برجِ قائد” کی آمد

پاکستان کی موجودہ عمارات کی اس فہرست کو مکمل طور پر بدلنے کے لیے اب رئیل اسٹیٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ سامنے آ گیا ہے۔ ڈی ایچ اے (DHA) سٹی کراچی اور اے بی ایس (ABS) ڈویلپرز کے مابین ایک تاریخی معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت "برجِ قائد” نامی ایک عظیم الشان اسکائی اسکریپر تعمیر کیا جائے گا۔
منزلیں اور بلندی: یہ میگا پراجیکٹ 82 منزلوں پر مشتمل ہوگا اور اس کی بلندی 941 فٹ (تقریباً 287 میٹر) سے زائد ہوگی۔ منزلوں کے لحاظ سے یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ منزلوں والی عمارت بن جائے گی۔
سرمایہ کاری: یہ منصوبہ 2 ارب ڈالر (تقریباً 560 ارب روپے) کی خطیر لاگت سے 6 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔
منفرد خصوصیات: سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) سے باقاعدہ این او سی یافتہ یہ منصوبہ 100 فیصد شریعہ کمپلائنٹ (سود سے پاک) فنانشل ماڈل پر بنایا جا رہا ہے، جو 6 سال کے عرصے میں مکمل ہو کر پاکستان کا ایک نیا عالمی لینڈ مارک بنے گا۔
(نوٹ: لاہور میں فیروز پور روڈ پر نووا ون ٹاور (Nova One Tower) بھی زیرِ تعمیر ہے، جس کی مجوزہ بلندی 228 میٹر ہے، جو مکمل ہونے پر لاہور کی بلند ترین اور پاکستان کی دوسری بلند ترین عمارت بن جائے گا۔)
معاشی تجزیہ اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا مستقبل
رئیل اسٹیٹ کے ماہرین کے مطابق، پاکستان میں ہائی رائز اور مکسڈ یوز عمارات کی تعمیر محض ایک فیشن نہیں بلکہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں آبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے افقی پھیلاؤ (Horizontal Expansion) کے بجائے عمودی پھیلاؤ (Vertical Expansion) ہی واحد حل ہے۔
"برجِ قائد”، "لاہور اسکائی” اور "نووا ون” جیسے عالمی معیار کے منصوبے نہ صرف مقامی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں بلکہ سیمنٹ، اسٹیل اور تعمیرات سے جڑی 40 سے زائد صنعتوں کے لیے روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ آنے والے چند سالوں میں، یہ عمارات پاکستان کو دنیا کے جدید ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
بشکریہ: ریسرچ اینڈ مارکیٹنگ ڈیٹا، اردو ڈیسک
