مصنوعی ذہانت سوچ کے مطابق کام کرے گی، اینتھروپک

واشنگٹن (ٹیکنالوجی ڈیسک): مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں ایک ایسی بڑی تبدیلی دستک دے رہی ہے جو مستقبل میں انسانوں اور مشینوں کے درمیان تعلق کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گی۔ معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اینتھروپک (Anthropic) کا دعویٰ ہے کہ اب ایسے جدید سسٹمز تیار کیے جا رہے ہیں جو صارف کے کہے بغیر ہی اس کی ضرورت کو بھانپنے کی صلاحیت رکھیں گے۔
عادات کو سمجھنے والا خودکار نظام اینتھروپک کی ایگزیکٹو کیتھرین وو (Catherine Wood) نے اپنے حالیہ بیان میں اس نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت محض ایک "ٹول” کے طور پر نہیں بلکہ ایک "ذہین معاون” کے طور پر کام کرے گی۔ سان فرانسسکو میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صارف کو ہر کام کے لیے AI کو مخصوص ہدایات (Prompts) دینی پڑتی ہیں، جیسے ای میل لکھوانا یا کوڈ تیار کرنا، لیکن اگلا بڑا مرحلہ AI کو "فعال” (Proactive) بنانا ہے۔
ہدایات کا محتاج نہیں رہے گا AI کیتھرین وو کے مطابق، جدید AI سسٹمز صارفین کی روزمرہ عادات اور ترجیحات کا گہرائی سے مطالعہ کریں گے اور پھر ان ہدایات کے بغیر ہی کام خود بخود انجام دینے کے قابل ہو جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سسٹم خود ہی فیصلہ کر سکے گا کہ صارف کو اس وقت کس معلومات یا ایکشن کی ضرورت ہے۔
ٹیکنالوجی کا نیا رخ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اینتھروپک اس منصوبے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ٹیکنالوجی کی تاریخ کا ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ پیچیدہ کاموں کو سرانجام دینے میں انسانی مداخلت کم سے کم رہ جائے گی۔
