بھارت میں پٹرول 3 روپے مہنگا، پاکستان سمیت دنیا بھر میں قیمتیں کہاں تک پہنچیں؟

نئی دہلی/اسلام آباد: ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران نے دنیا بھر کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں 100 سے 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں۔ اس شدید عالمی دباؤ کے باوجود، مختلف ممالک نے اپنے معاشی حالات کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلیاں کی ہیں، جن میں بھارت نے قیمتوں کو کنٹرول میں رکھ کر ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔
بھارت میں چار سال بعد معمولی اضافہ
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، نئی دہلی میں 15 مئی کو پٹرول کی قیمتوں میں 4 سال بعد محض 3 فیصد یعنی صرف 3 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد بھارت میں پٹرول کی نئی قیمت 97.77 بھارتی روپے (پاکستانی روپوں میں تقریباً 284 روپے) اور ڈیزل کی قیمت 90.67 بھارتی روپے (پاکستانی روپوں میں تقریباً 263 روپے) فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھارتی تیل کمپنیاں اس وقت روزانہ 29 سے 49 ارب روپے کا بھاری معاشی نقصان برداشت کر رہی ہیں۔
پاکستان اور دیگر ممالک میں قیمتوں کا موازنہ
بھارت کے برعکس، پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔ 9 مئی سے پاکستان میں پٹرول کی قیمت 414.78 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 414.58 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
عالمی بحران کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہونے والے اضافے کی شرح کچھ یوں رہی:
میانمار: 90 فیصد اضافہ
ملائیشیا: 56 فیصد اضافہ
پاکستان: 55 فیصد اضافہ
متحدہ عرب امارات: 52 فیصد اضافہ
امریکہ: 45 فیصد اضافہ
کینیڈا: 31 فیصد اضافہ
چین: 21 فیصد اضافہ
برطانیہ: 19 فیصد اضافہ
بنگلادیش: 16 فیصد اضافہ
سعودی عرب: قیمتیں مستحکم رہیں (کوئی اضافہ نہیں ہوا)
آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہونے سے عالمی معیشتوں کو اب تک کھربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، اور ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں ایندھن کی قیمتوں کا یہ تفاوت مختلف ممالک کی سبسڈیز اور معاشی استحکام کی پالیسیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
