سعودی عرب کے لیے جو خطرہ ہے وہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے، ترجمان پاک فوج

DG ISPR Lt Gen Ahmed Sharif Chaudhry talking about Pak-Saudi strategic defense relations and protection of Harmain Sharifain.
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری: سعودی عرب کی سلامتی ہمیں اتنی ہی عزیز ہے جتنی پاکستان کی سلامتی۔

راولپنڈی: (ویب ڈیسک) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور برادرانہ تعلقات اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں، اور حرمین شریفین کا تحفظ ہر پاکستانی کے ایمان کا حصہ ہے۔

پاک سعودی اسٹریٹجک تعلقات

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ بہت گہرے، برادرانہ اور جذبات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں سے ایک ‘اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس معاہدہ’ موجود ہے جو ہمارے تاریخی تعلقات کا مظہر ہے۔

بھارت کی ممکنہ جارحیت اور سعودی تعاون

دورانِ پریس کانفرنس جب ان سے سوال کیا گیا کہ "اگر بھارت دوبارہ جارحیت کرتا ہے تو سعودی عرب کی کیا پوزیشن ہوگی؟” تو لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے جواب دیا:

"سعودی عرب کو پاکستان کی سلامتی اتنی ہی عزیز ہے جتنی ہمیں سعودی عرب کی سلامتی۔ باہمی معاہدے اور برادرانہ تعلق کے تحت سعودی عرب کے لیے کوئی بھی خطرہ پاکستان کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا۔”

حرمین شریفین کا دفاع

ترجمان پاک فوج نے حرمین شریفین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "محافظینِ حرمین شریفین” کا اعزاز پاکستان کے پاس ہے، جو ہر مسلمان اور پاکستانی بچے کے لیے فخر کا باعث ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر حرمین شریفین کو کوئی بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے، تو اس کے دفاع کے لیے اللہ تعالیٰ نے پاکستان اور اس کی افواج کو منتخب کیا ہے اور ہم اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت محض ایک ڈیوٹی نہیں بلکہ سعودی عرب کی قومی سلامتی اور عالمِ اسلام کے اتحاد کا محور ہے، جس پر پاکستان کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے