یورپی پارلیمنٹ کے سامنے خالصتان کی آزادی کیلئے عظیم الشان مظاہرہ: سکھ کمیونٹی کا اجتماع

لگسمبرگ سٹی: لگسمبرگ میں قائم یورپی پارلیمنٹ کے دفاتر کے باہر سکھ کمیونٹی کی جانب سے ایک بڑے اور پرامن احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں یورپ بھر سے سیکڑوں سکھوں نے شرکت کی۔ اس مظاہرے کا مقصد بین الاقوامی برادری، بالخصوص یورپی یونین کی توجہ خالصتان کی آزادی اور بھارت میں سکھوں کے حقوق کی مبینہ پامالی کی جانب مبذول کروانا تھا۔
مظاہرے کے کلیدی احوال
مظاہرین نے ہاتھوں میں "خالصتان زندہ باد” کے بینرز اور زرد رنگ کے پرچم تھامے ہوئے تھے، جن پر آزادی کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرے کے دوران فضا "ریفرنڈم” اور "حقِ خودارادیت” کے نعروں سے گونجتی رہی۔
کمیونٹی کی شرکت: مظاہرے میں صرف لگسمبرگ ہی نہیں بلکہ بیلجیم، فرانس، جرمنی اور ہالینڈ سے بھی سکھ تنظیموں کے نمائندوں اور خاندانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
یورپی یونین سے مطالبہ: مظاہرین کے وفد نے یورپی پارلیمنٹ کے حکام کو ایک یادداشت (Memorandum) بھی پیش کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ یورپی یونین بھارت پر زور دے کہ وہ سکھوں کو ان کا جمہوری حقِ خودارادیت فراہم کرے۔
مقررین کے خطاب
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سکھ رہنماؤں نے کہا کہ سکھ قوم اپنی الگ شناخت اور ریاست کے قیام کیلئے دہائیوں سے جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے عالمی دنیا پر زور دیا کہ وہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا نوٹس لے۔
"ہم یہاں کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اپنے بنیادی انسانی حق اور آزادی کیلئے جمع ہوئے ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ جمہوریت کا گڑھ ہے، اس لیے ہم یہاں سے اپنی آواز پوری دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں۔”
سیکیورٹی اور انتظامات
لگسمبرگ پولیس کی جانب سے یورپی پارلیمنٹ کے اطراف سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، تاہم مظاہرہ مکمل طور پر پرامن رہا۔ مقامی میڈیا نے بھی اس اجتماع کو بھرپور کوریج دی، جس سے اس تحریک کو یورپی حلقوں میں نئی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔
مزید تفصیلات اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کریں: UrduDesk.com
