ملک بھر میں نئے گیس کنکشنز پر فوری پابندی کا فیصلہ: گھریلو اور کمرشل صارفین متاثر

پاکستان میں نئے گیس کنکشن پر پابندی کی علامتی تصویر جس میں گیس میٹر پر تالا لگا ہوا دکھایا گیا ہے۔
وزارتِ پیٹرولیم کا ملک بھر میں نئے گیس کنکشنز پر پابندی کا فیصلہ؛ گھریلو اور کمرشل صارفین متاثر ہوں گے۔

اسلام آباد (UrduDesk.com): ملک میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور گیس کے ذخائر میں کمی کے پیشِ نظر وزارتِ پیٹرولیم نے ملک بھر میں نئے گیس کنکشنز فراہم کرنے پر ایک بار پھر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق گھریلو اور کمرشل دونوں اقسام کے صارفین پر ہوگا۔

پابندی کی وجوہات اور ذرائع کے دعوے

وزارتِ پیٹرولیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قدم گیس کی طلب اور رسد میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ملک میں قدرتی گیس کی پیداوار میں مسلسل کمی ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی ایل این جی (LNG) کی قیمتیں عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہیں، جس کی وجہ سے نئے کنکشنز کا بوجھ اٹھانا سسٹم کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔

صارفین کے لیے بڑا جھٹکا

حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محض چند ماہ قبل ہی گیس کے نئے کنکشنز پر عائد طویل پابندی کو ختم کیا گیا تھا۔ ہزاروں صارفین، جنہوں نے ڈیمانڈ نوٹس جمع کروا رکھے تھے اور اپنے گھروں یا کاروبار کے لیے گیس کنکشن کے منتظر تھے، اس فیصلے سے براہِ راست متاثر ہوں گے۔

اہم نکات:

  • گھریلو صارفین: نئے گھروں میں گیس میٹرز کی تنصیب روک دی جائے گی۔

  • کمرشل سیکٹر: ہوٹلوں، کیفے اور دیگر تجارتی مراکز کو بھی نئے کنکشنز جاری نہیں کیے جائیں گے۔

  • پہلے سے جاری درخواستیں: ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جن صارفین نے ڈیمانڈ نوٹس جمع کروا دیے ہیں، انہیں کنکشن ملیں گے یا ان کا عمل بھی روک دیا جائے گا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وزارتِ پیٹرولیم جلد ہی اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے گی، جس کے بعد سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنیوں کو ہدایات جاری کر دی جائیں گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے بجلی پر انحصار بڑھے گا اور صارفین کو ایل پی جی یا دیگر متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے