آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.12 ارب ڈالر کی آخری قسط منظور کر لی

آئی ایم اف کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر قسط کی منظوری کی خبر
آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی آخری قسط کی منظوری، پاکستانی معیشت کے لیے اہم پیش رفت

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے موجودہ پروگرام کے تحت 1.12 ارب ڈالر کی آخری قسط کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رقم آئندہ ہفتے پاکستان کو منتقل کر دی جائے گی، جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔

نئی شرائط اور سخت فیصلے: آئی ایم ایف نے اس قسط کی منظوری کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے انتہائی سخت شرائط بھی عائد کی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جنگ جیسے حالات کے باوجود معاشی اہداف پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

اہم نکات:

  • بجٹ سرپلس: حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 28.4 کھرب روپے کے پرائمری بجٹ سرپلس پر اتفاق کیا ہے، جو کہ جی ڈی پی کا 2 فیصد بنتا ہے۔

  • بجلی و گیس کی قیمتیں: آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ بجلی اور گیس کے ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ گردشی قرضوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔

  • اسپیشل اکنامک زونز: معاہدے کے تحت اسپیشل اکنامک اور ٹیکنالوجی زونز کو دی جانے والی موجودہ مراعات 2035 تک بتدریج ختم کر دی جائیں گی۔

  • نجی شعبہ اور گورننس: آئی ایم ایف نے اب تک مجموعی طور پر 75 شرائط عائد کی ہیں، جن میں معاشی فیصلہ سازی، گورننس اور نجی شعبے کی ترقی سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔

معاشی استحکام کی جانب قدم: ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسط کی وصولی سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا اور ملک میں معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔ تاہم، سخت شرائط کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ شرح سود پہلے ہی 11.5 فیصد تک بڑھائی جا چکی ہے اور مزید اضافے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔


مزید خبروں کے لیے وزٹ کریں: UrduDesk.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے