خلا میں روس کے فوجی سیٹلائٹس کی پُراسرار حرکت، دنیا بھر کے ماہرین حیران

ویب ڈیسک | مئی 09، 2026
ماسکو/واشنگٹن: خلا میں روس کے دو فوجی سیٹلائٹس کی جانب سے کی جانے والی پُراسرار اور غیر معمولی نقل و حرکت نے دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات اور خلائی دفاعی اداروں کو چوکنا کر دیا ہے۔ امریکی خلائی نگرانی کی کمپنی ‘کومسپوک’ (COMSPOC) کے مطابق، روسی سیٹلائٹس ایک دوسرے کے اس قدر قریب آ گئے کہ ان کے درمیان فاصلہ صرف چند میٹر رہ گیا تھا۔
انتہائی قریب سے گزرنے کا واقعہ رپورٹ کے مطابق، کوس موس 2581 اور کوس موس 2583 نامی روسی فوجی سیٹلائٹس، جنہیں فروری 2025 میں خلا میں روانہ کیا گیا تھا، گزشتہ ہفتے زمین سے تقریباً 585 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں گردش کرتے ہوئے ایک دوسرے کے انتہائی قریب دیکھے گئے۔ ماہرین اس وقت حیران رہ گئے جب دونوں سیٹلائٹس کے درمیان فاصلہ سمٹ کر محض 3 میٹر رہ گیا۔
🛰️Russian satellites multi-object proximity event in LEO
Radar tracking data via @LeoLabs_Space, processed through COMSPOC SSA Suite.
This week we observed a complex proximity event involving Russian satellites: COSMOS 2581, 2582, 2583, and Object F (a subsatellite released by… pic.twitter.com/3nDkcOmTuD
— COMSPOC_OPS (@COMSPOC_OPS) May 1, 2026
امریکی ادارے کے انکشافات خلائی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی امریکی کمپنی ‘کومسپوک’ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں تھا۔ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوس موس 2583 نے کئی بار انتہائی باریک بینی اور مہارت کے ساتھ اپنی سمت اور رفتار تبدیل کی تاکہ وہ دوسرے سیٹلائٹ کے مسلسل قریب رہ سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ روس اس وقت خلا میں انتہائی جدید اور پیچیدہ ‘مینوورنگ’ ٹیکنالوجی کی جانچ کر رہا ہے۔
خلائی جاسوسی اور تصادم کے خدشات اس واقعے نے مدار میں ممکنہ تصادم اور خلائی جاسوسی (Space Espionage) کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، ایسی ٹیکنالوجی کا مقصد "انسپکٹر سیٹلائٹس” تیار کرنا ہے جو دشمن کے سیٹلائٹس کے قریب جا کر ان کی جاسوسی کرنے یا ضرورت پڑنے پر انہیں ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
خلا میں اتنے کم فاصلے پر سیٹلائٹس کی موجودگی کو بین الاقوامی خلائی قوانین کے حوالے سے بھی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ معمولی سی تکنیکی خرابی ایک بڑے حادثے اور خلائی ملبے میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ تاحال روسی خلائی ادارے ‘روس کوس موس’ نے اس مخصوص مشق کے مقاصد کے حوالے سے کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔
UrduDesk.com
