عمران خان کی حکومت کے خاتمے کا مبینہ ‘سائفر’ منظرِ عام پر آ گیا

عمران خان سائفر کیس اور امریکی محکمہ خارجہ کی مبینہ خفیہ دستاویز

سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت کا مبینہ سائفر اور امریکی جریدے ڈراپ سائٹ کی رپورٹ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)

پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے تنازع یعنی ‘سائفر’ کے حوالے سے ایک امریکی تحقیقاتی نیوز ویب سائٹ ’’ڈراپ سائٹ‘‘ نے انتہائی اہم دستاویزات عام کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ وہی خفیہ سفارتی مراسلہ ہے جو سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں واشنگٹن سے اسلام آباد بھیجا گیا تھا۔ یہ مراسلہ امریکہ میں تعینات اس وقت کے پاکستانی سفیر اسد مجید اور امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو کے مابین ہونے والی انتہائی حساس گفتگو پر مبنی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان مسلسل یہ مؤقف اپناتے رہے ہیں کہ ان کی حکومت کو گرانے کی بیرونی سازش کا سب سے بڑا ثبوت یہی سفارتی خط تھا۔

یوکرین تنازع اور عمران خان کی خارجہ پالیسی پر امریکی اعتراضات

انٹرنیٹ پر سامنے آنے والی اس مبینہ دستاویز کے مطابق، امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو نے پاکستانی سفیر سے ملاقات کے دوران یوکرین جنگ پر پاکستان کے غیر جانبدارانہ طرزِ عمل پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور یورپی دارالحکومتوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر پاکستان کی غیر جانبداری دراصل ریاست کی متفقہ پالیسی نہیں، بلکہ یہ عمران خان کا ذاتی فیصلہ ہے۔ امریکہ کے مطابق عمران خان اس پالیسی کو اپنے ملک کے اندر ایک خود مختار رہنما کا امیج بنانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

پاکستانی سفیر اسد مجید نے امریکی حکام کے اس پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس یوکرین جنگ پر پاکستان کا مؤقف کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ تمام ملکی اداروں کی باہمی مشاورت سے تیار کردہ قومی پالیسی کا حصہ ہے۔ دورانِ گفتگو جب پاکستانی سفیر نے پوچھا کہ کیا اقوامِ متحدہ میں روس کے خلاف ووٹ نہ دینے پر امریکہ ناراض ہے؟ تو ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ اصل مسئلہ ووٹنگ کا نہیں بلکہ عین جنگ کے آغاز پر عمران خان کا دورۂ ماسکو تھا۔

عمران خان سائفر کیس اور امریکی محکمہ خارجہ کی مبینہ خفیہ دستاویز
سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت کا مبینہ سائفر اور امریکی جریدے ڈراپ سائٹ کی رپورٹ

عدم اعتماد کی کامیابی پر سب معاف کرنے کی مبینہ امریکی یقین دہانی

اس خفیہ دستاویز کا سب سے سنسنی خیز حصہ وہ ہے جہاں امریکی عہدیدار نے پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات کو پاک امریکہ تعلقات کی بحالی سے مشروط کیا۔ مبینہ مراسلے کے مطابق ڈونلڈ لو نے دوٹوک الفاظ میں کہا:

’’اگر عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے، تو واشنگٹن پاکستان کی تمام خطاؤں کو معاف کر دے گا اور تعلقات دوبارہ معمول پر آ جائیں گے۔ لیکن اگر یہ تحریک ناکام رہی تو پاکستان کے لیے آگے کا سفر انتہائی کٹھن ہو جائے گا اور دونوں ممالک کے تعلقات شدید سرد مہری کا شکار ہو سکتے ہیں۔‘‘

پاکستانی سفیر نے امریکی پوزیشن پر سخت گرفت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا روس کا سفر مہینوں پہلے سے طے تھا اور جب وہ ماسکو پہنچے تو جنگ شروع نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انہی دنوں متعدد یورپی ممالک کے سربراہان بھی روس کے دورے پر تھے۔

کشمیر پر امریکی خاموشی اور پاکستان کے شکوے

جب ڈونلڈ لو نے یہ دلیل دی کہ یورپی رہنما جنگ رکوانے گئے تھے جبکہ پاکستانی وزیراعظم دوطرفہ تعلقات کے لیے گئے تھے، تو اسد مجید نے واضح کیا کہ عمران خان نے ماسکو میں بھی جنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سفارت کاری پر زور دیا تھا۔

مراسلے کے مطابق سفیرِ پاکستان نے امریکہ کو آئینے دکھاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام اور قیادت کا یہ گلہ بالکل جائز ہے کہ واشنگٹن اپنے مفادات کے لیے تو پاکستان سے ہر قسم کے تعاون کی امید رکھتا ہے، لیکن جب کشمیر جیسے پاکستان کے بقا کے معاملے پر بات آتی ہے تو امریکہ ہمیشہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یوکرین کا معاملہ امریکہ کے لیے اتنا اہم تھا تو اس پر پہلے سے اعلیٰ سطح پر مشاورت کیوں نہیں کی گئی؟

ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ پاکستان کے سیاسی حالات کی وجہ سے امریکہ اس وقت اعلیٰ سطحی رابطوں کے لیے سازگار ماحول نہیں دیکھ رہا تھا اور واشنگٹن سیاسی استحکام کا منتظر تھا۔

اسلام آباد کو سخت سفارتی ردِعمل کی سفارش

دستاویز کے آخری حصے میں پاکستانی سفیر نے اپنی حکومت کو متبادل حکمتِ عملی تجویز کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی حکام کا یہ لب و لہجہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں صریح مداخلت ہے۔ انہوں نے سفارش کی کہ حکومتِ پاکستان کو فوری طور پر اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر کے اس غیر پیشہ ورانہ رویے پر شدید سفارتی احتجاج (Demarche) ریکارڈ کرانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے