ایرانی صدر نے ساڑھے 4 ہزار سال پرانے درخت کی تصویر کیوں شیئر کی؟ حیران کن وجہ سامنے آ گئی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر ایران میں موجود ساڑھے 4 ہزار سال پرانے تاریخی درخت کی تصویر شیئر کر کے دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔ اس تصویر کے پیچھے چھپی اصل وجہ اور عالمی سیاست کا دلچسپ پس منظر اب سامنے آ گیا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے تصویر کے ساتھ اپنے خصوصی بیان میں لکھا:
"سرو (Cypress) کا یہ درخت ایشیا کا قدیم ترین جاندار ہے۔ یہ اس دھرتی پر موجود ہے جو ساڑھے چار ہزار سال پہلے بھی ‘ایران’ کے نام سے ہی جانی جاتی تھی۔”
یہ درخت ایران کی قدیم ترین تہذیب اور بقا کی علامت بن کر ابھرا ہے، لیکن اس تصویر کو اچانک شیئر کرنے کی ٹائمنگ نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے دورۂ چین کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چین کے انتہائی خفیہ اور نایاب حکومتی باغ کا دورہ کروایا تھا۔
چینی صدر نے ٹرمپ کو باغ میں موجود 490 سال پرانے درخت دکھائے تھے۔
صدر شی نے فخر سے بتایا تھا کہ اس باغ میں بعض درخت 1000 سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تاریخی ماحول کو بے حد سراہا تھا اور کہا تھا کہ انہیں یہ جگہ بہت پسند آئی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایرانی صدر کی جانب سے اس تصویر کو شیئر کرنے کا مقصد دراصل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک واضح اور سخت سفارتی پیغام دینا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ماضی میں ایران کو نشانہ بناتے ہوئے اس کی قدیم تہذیب اور ثقافتی مقامات کو اجاڑنے کی دھمکی دی تھی۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان نے ساڑھے 4 ہزار سال پرانے جاندار کی تصویر شیئر کر کے ٹرمپ کو یاد دلایا ہے کہ جب امریکہ کا نام و نشان بھی نہیں تھا، اور جن درختوں پر چین فخر کرتا ہے، ایران کی تاریخ اور اس کے جاندار اس سے بھی ہزاروں سال پرانے اور مضبوط ہیں۔
