دنیا

ایران کے ساتھ کشیدگی اور بڑھتی مہنگائی: صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، امریکی عوام نالاں

Donald Trump with falling popularity graph, war tensions with Iran and inflation symbolic imagery.
ایران جنگ کے خطرات اور مہنگائی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں بڑی کمی کر دی۔

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکہ میں ہونے والے حالیہ عوامی سروے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے بادل اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے صدر کی مقبولیت کو ان کی دوسری مدتِ صدارت کی کم ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

سروے کے حیران کن اعداد و شمار

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی (NBC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سروے رپورٹ کے مطابق، 63 فیصد امریکی شہری صدر ٹرمپ کی موجودہ پالیسیوں سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر کی مجموعی مقبولیت کم ہو کر صرف 37 فیصد رہ گئی ہے، جو کہ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

نوجوان طبقہ جنگ کا مخالف

سروے میں سب سے اہم پہلو نوجوانوں کی رائے ہے۔ 30 سال سے کم عمر کے 74 فیصد افراد نے ایران پر مزید امریکی حملوں کی سخت مخالفت کی ہے۔ نوجوان نسل کا ماننا ہے کہ جنگی جنون ملک کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل دے گا، اور وہ فوجی مداخلت کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔

مہنگائی اور معیشت پر تنقید

صرف خارجہ پالیسی ہی نہیں، بلکہ ملکی معیشت بھی عوام کی ناراضگی کی بڑی وجہ بنی ہوئی ہے۔ سروے میں شامل 66 فیصد شہریوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو معاشی محاذ پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ پیٹرول اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے نے عام امریکی کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

سیاسی مستقبل پر اثرات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کشیدگی برقرار رہتی ہے اور معاشی صورتحال میں بہتری نہیں آتی، تو آنے والے وقت میں ٹرمپ انتظامیہ کو مزید سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد اب جنگی پالیسیوں کے بجائے معاشی استحکام اور امن کی خواہاں ہے۔


بشکریہ: UrduDesk.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے