🚨 عالمی پاسپورٹ انڈیکس جاری: پاکستانی پاسپورٹ بدترین پوزیشن پر برقرار!

A close-up of a green Pakistani passport on a world map, indicating the 101st rank in the Henley Passport Index 2026.
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026: پاکستانی پاسپورٹ عالمی سطح پر 101ویں نمبر پر آگیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک / اردو ڈیسک):
دنیا بھر میں پاسپورٹس کی طاقت، بین الاقوامی سفری آزادی اور ویزا سہولتوں کا جائزہ لینے والے معروف ادارے ہینلے اینڈ پارٹنرز (Henley & Partners) نے ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 جاری کر دیا ہے، جس میں پاکستانی پاسپورٹ کی نئی عالمی درجہ بندی سامنے آ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی عددی رینکنگ میں دو نمبروں کا اضافہ ضرور ہوا ہے، تاہم عملی طور پر ملک کی عالمی حیثیت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔

تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ 103 ویں نمبر سے 101 ویں نمبر پر آ گیا ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان اب بھی دنیا کے چوتھے کمزور ترین پاسپورٹ کا حامل ملک ہے، کیونکہ عالمی فہرست میں اس سے نیچے صرف عراق، شام اور افغانستان موجود ہیں۔

پاکستانی شہری کتنے ممالک میں بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں؟

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد اس وقت 29 ممالک اور خطوں میں ویزا فری (Visa-Free) یا ویزا آن ارائیول (Visa on Arrival) کی سہولت کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں، جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں داخلے کے لیے بدستور پیشگی ویزا درکار ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عددی رینک میں معمولی بہتری ضرور آئی ہے، لیکن پاکستانی شہریوں کی سفری آزادی میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا، کیونکہ ویزا فری رسائی کے مواقع تقریباً وہی ہیں۔

دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کون سے ہیں؟

2026 کے ہینلے پاسپورٹ انڈیکس میں سنگاپور ایک بار پھر دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ قرار پایا ہے، جہاں کے شہری 192 ممالک میں ویزا فری یا آسان سفری سہولت سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

علاقائی سطح پر بھارت 81 ویں نمبر پر موجود ہے، جبکہ پاکستان 101 ویں نمبر پر ہے۔ دوسری جانب افغانستان مسلسل دنیا کا کمزور ترین پاسپورٹ رکھنے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔

دو درجے بہتری کے باوجود حقیقت کیا ہے؟

سفارتی امور کے ماہرین کے مطابق صرف عددی رینک بہتر ہونے سے کسی ملک کے پاسپورٹ کی اصل طاقت میں اضافہ نہیں ہو جاتا۔ اگر کسی ملک سے نیچے موجود ممالک کی تعداد یا ویزا فری رسائی میں خاطر خواہ فرق نہ آئے تو ایسی تبدیلی کو بڑی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے بھی نیچے سے چوتھے نمبر پر تھا اور تازہ رپورٹ میں بھی یہی پوزیشن برقرار ہے، اس لیے موجودہ تبدیلی زیادہ تر تکنیکی نوعیت کی ہے۔

پاکستانی پاسپورٹ مضبوط کیسے ہو سکتا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی ساکھ بہتر بنانے کے لیے حکومت کو فعال سفارت کاری، اقتصادی استحکام، مؤثر خارجہ پالیسی اور مختلف ممالک کے ساتھ باہمی ویزا معافی یا آسان ویزا معاہدوں پر توجہ دینا ہوگی۔

ان کے مطابق اگر پاکستان دنیا کے مزید ممالک کے ساتھ سفری معاہدے طے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا براہِ راست فائدہ طلبہ، تاجروں، سرمایہ کاروں اور سیاحوں کو ہوگا۔

نتیجہ

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 میں پاکستانی پاسپورٹ کی عددی درجہ بندی میں معمولی بہتری ضرور دیکھی گئی ہے، لیکن عملی اعتبار سے پاکستان اب بھی دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس تبدیلی کو علامتی قرار دیتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حقیقی بہتری صرف مؤثر سفارت کاری اور بین الاقوامی اعتماد میں اضافے سے ہی ممکن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے