عوام پر پٹرول اور ڈیزل کے ٹیکسز کا کتنا بوجھ ہے؟ ہوش رُبا تفصیلات سامنے آ گئیں

Pakistan fuel stations showing petrol and diesel dispensers representing the new tax, petroleum levy, and margins implementation.
ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل پر عائد بھاری ٹیکسز، لیوی اور کمپنیوں کے مارجنز کی نئی تفصیلات سامنے آ گئیں۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک): ملک میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی اصل قیمت اور ان پر وصول کیے جانے والے بھاری ٹیکسز، لیوی اور مختلف مارجنز کی مکمل تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی اصل لاگت سے کہیں زیادہ رقم ٹیکسوں اور مارجنز کی مد میں ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

دستاویزات کے مطابق پٹرول پر فی لیٹر مجموعی طور پر 118.76 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 110.65 روپے لیوی، ٹیکس اور مختلف مارجنز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔

پٹرول کی اصل قیمت اور ٹیکسز کا بریک ڈاؤن

رپورٹ کے مطابق ایک لیٹر پٹرول کی اصل بنیادی لاگت صرف 178 روپے 77 پیسے ہے، لیکن حکومت کی جانب سے مختلف ٹیکسز اور مارجنز شامل کرنے کے بعد شہریوں کے لیے اس کی فائنل قیمت 297 روپے 53 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ پٹرول پر وصول کیے جانے والے ٹیکسز کی تفصیل درج ذیل ہے:

  • پیٹرولیم لیوی: 70 روپے 36 پیسے

  • کلائمیٹ سپورٹ لیوی: 5 روپے 00 پیسے

  • کسٹمز ڈیوٹی: 19 روپے 33 پیسے

  • ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (IFEM): 6 روپے 86 پیسے

  • آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کا مارجن: 7 روپے 87 پیسے

  • ڈیلرز مارجن: 8 روپے 64 پیسے

  • مجموعی بوجھ (ٹیکسز + مارجنز): 118 روپے 76 پیسے

ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) پر ٹیکسز کی تفصیلات

اسی طرح اگر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بات کی جائے تو اس کی بنیادی لاگت پٹرول سے زیادہ ہے، لیکن اس پر ٹیکسز کا بوجھ پٹرول کے مقابلے میں معمولی کم ہے۔ ڈیزل کی بنیادی لاگت 198 روپے 85 پیسے ہے، جس پر مجموعی طور پر 110 روپے 65 پیسے کے ٹیکسز، لیوی اور مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں۔ ان تمام اخراجات کو شامل کرنے کے بعد عوام کے لیے ڈیزل کی فائنل قیمت 309 روپے 50 پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔

پٹرول پر ڈیزل سے زیادہ ٹیکس، اصل قیمت میں بڑا فرق

اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ حکومت پٹرول پر ڈیزل کے مقابلے میں فی لیٹر 8.11 روپے زیادہ ٹیکس اور مارجنز وصول کر رہی ہے۔ اگرچہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی اصل لاگت پٹرول سے تقریباً 20 روپے زیادہ ہے، لیکن پٹرول پر بھاری ٹیکسیشن کے باعث دونوں مصنوعات کی فائنل قیمتوں میں فرق سمٹ کر صرف 11 روپے 97 پیسے رہ گیا ہے۔

ٹیکسز اور لیوی کی یہ بھاری شرح ملک میں مہنگائی کی موجودہ لہر اور عوامی حلقوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ہونے والی تنقید کی بنیادی وجہ بنی ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے