ہنر مند تعلیم بمقابلہ روایتی ڈگری: کیا صرف ڈگری کافی ہے؟

تحریر: ادارہ اردو ڈیسک
ایک دور تھا جب ہاتھ میں ڈگری ہونا روشن مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، لیکن آج کی تیز رفتار ڈیجیٹل دنیا میں یہ تصور تیزی سے بدل رہا ہے۔ دنیا بھر میں بڑی بڑی کمپنیاں اب امیدواروں سے ان کی "ڈگری” کے بجائے ان کی "مہارت” (Skills) کے بارے میں سوال کرتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اب بھی اپنے بچوں کو صرف کتابی علم دے رہے ہیں یا انہیں عملی زندگی کے لیے تیار کر رہے ہیں؟
روایتی ڈگری ہمیں بنیاد اور علمی شعور تو فراہم کرتی ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارا موجودہ تعلیمی نصاب مارکیٹ کی طلب کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ ہر سال ہزاروں طلبہ ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں لیکن عملی کام کی سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہاں "ہنر مند تعلیم” (Vocational Training) کی ضرورت سامنے آتی ہے۔
مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اب وقت آ گیا ہے کہ اسکول کی سطح پر ہی بچوں کو ایسی مہارتیں سکھائی جائیں جو انہیں معاشی طور پر خود مختار بنا سکیں۔
گرافک ڈیزائننگ (Graphic Designing): تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے۔ اسکولوں میں بصری ابلاغ (Visual Communication) سکھانے سے بچوں میں تخلیقی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا ہنر ہے جس کی مانگ ہر چھوٹے بڑے کاروبار میں موجود ہے۔
کوڈنگ اور پروگرامنگ (Coding): کوڈنگ مستقبل کی زبان ہے۔ جس طرح ہم انگریزی یا اردو سیکھتے ہیں، اسی طرح کمپیوٹر کی زبان سیکھنا اب ضرورت بن چکا ہے۔ کوڈنگ بچوں میں مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت (Problem Solving) پیدا کرتی ہے۔
فری لانسنگ (Freelancing): صرف ہنر سیکھنا کافی نہیں، اسے بیچنا بھی ایک ہنر ہے۔ اسکول میں بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے عالمی مارکیٹ (جیسے Fiverr یا Upwork) تک کیسے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
مہارت اور ڈگری ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہونی چاہئیں۔ ایک مثالی تعلیمی نظام وہ ہے جہاں طالب علم کے پاس تعلیمی سند بھی ہو اور ہاتھ میں کوئی ایسا ہنر بھی ہو جس کے ذریعے وہ اپنی تعلیم کے دوران ہی اپنی جیب خرچ نکال سکے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد ملازمت کا محتاج نہ رہے۔
The AIMS School میں ہمارا وژن بھی یہی ہے کہ تعلیم کو صرف چار دیواری تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ طلبہ کو عملی زندگی کے ہنر سکھا کر انہیں "جاب سیکر” (Job Seeker) کے بجائے "جاب کریئٹر” (Job Creator) بنایا جائے۔
آنے والا دور "ہنر مندوں” کا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں، تو ہمیں اسکولوں میں روایتی نصاب کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی اور ہنرمندی کو لازمی جگہ دینی ہوگی۔ یاد رکھیے، ڈگری آپ کو انٹرویو تک لے جا سکتی ہے، لیکن ہنر آپ کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔
