اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کی بحالی کا امکان، 14 نکاتی فارمولے پر کام جاری

اسلام آباد (اردو ڈیسک): خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ جنگ کے خطرات کو ٹالنے کے لیے پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا مرکز بننے جا رہا ہے۔ امریکی اخبار ‘دی وال اسٹریٹ جرنل’ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ اگلے ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا قوی امکان ہے۔
مذاکرات کا پس منظر اور 14 نکاتی ایجنڈا
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندے ثالثوں کی مدد سے ایک جامع ‘مفاہمتی یادداشت’ (MoU) پر کام کر رہے ہیں۔ یہ معاہدہ ایک صفحے پر مشتمل ہے جس میں 14 اہم نکات شامل کیے گئے ہیں۔ اس مفاہمت کے تحت ابتدائی طور پر ایک ماہ کا مذاکراتی فریم ورک طے کیا جائے گا جس کے دوران مختلف تنازعات کا حل نکالا جائے گا۔
بنیادی نکات اور زیرِ بحث امور
ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں تین اہم ترین موضوعات پر توجہ دی جائے گی:
ایران کا جوہری پروگرام: جوہری سرگرمیوں کی حد بندی اور بین الاقوامی معائنہ۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی: عالمی تجارتی گزرگاہ میں امن و امان کی صورتحال اور بحری جہازوں کی حفاظت۔
یورینیم کے ذخائر: ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کی تجویز۔
مذاکرات میں حائل رکاوٹیں
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، پیش رفت کے باوجود چند پیچیدہ مسائل اب بھی موجود ہیں۔ ان میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی کی حد ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ معاشی پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں، جبکہ امریکا اس معاملے میں بتدریج اقدامات پر یقین رکھتا ہے۔ اگر فریقین کے درمیان ان نکات پر اتفاق ہو جاتا ہے تو مذاکرات کے دورانیہ میں مزید توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
پاکستان کا کلیدی کردار
واضح رہے کہ اس سے قبل 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا تھا۔ اگرچہ اس وقت کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا، تاہم پاکستان کی میزبانی میں ان رابطوں کی بحالی کو عالمی سطح پر امن کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
