ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کا دیسی و جدید علاج: طرزِ زندگی میں تبدیلی ہی اصل حل

تحریر: ادارہ اردو ڈیسک
آج کے دور میں ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس (شوگر) دو ایسے خاموش دشمن بن چکے ہیں جو تقریباً ہر دوسرے گھر میں دستک دے رہے ہیں۔ یہ بیماریاں نہ صرف انسان کی کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں بلکہ اگر ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ دل، گردوں اور بینائی کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ جدید تحقیق اور روایتی دیسی نسخوں کے ملاپ سے ان دونوں بیماریوں کو مکمل طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
شوگر کا علاج ادویات سے زیادہ پرہیز اور غذا میں چھپا ہے۔ خون میں گلوکوز کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے درج ذیل غذائی تبدیلیاں جادوئی اثر رکھتی ہیں:
سفید اشیاء سے پرہیز: چینی، سفید آٹا (میدہ) اور سفید چاول شوگر کے مریضوں کے لیے زہر کی مانند ہیں۔ ان کی جگہ چکی کا آٹا (براؤن آٹا) اور جو (Barley) کا استعمال شروع کریں۔
سبزیوں کا زیادہ استعمال: کریلے، پالک، میتھی اور بھنڈی جیسی سبزیاں شوگر کو قدرتی طور پر کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ خاص طور پر کریلے کا جوس نہار منہ پینا لبلبے کو متحرک کرتا ہے۔
پھلوں کا انتخاب: ایسے پھلوں سے بچیں جن میں مٹھاس زیادہ ہو (جیسے آم اور انگور)۔ اس کے بجائے جامن، امرود اور سیب کا استعمال کریں جو شوگر لیول کو اچانک بڑھنے نہیں دیتے۔
دار چینی کا استعمال: جدید طبی تحقیق سے ثابت ہے کہ روزانہ آدھا چمچ دار چینی کا پاؤڈر سالن یا قہوہ میں ڈال کر پینا انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتا ہے۔
بلڈ پریشر کو "سائلنٹ کلر” کہا جاتا ہے کیونکہ اکثر اوقات اس کی کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی، مگر یہ اندر ہی اندر شریانوں کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے درج ذیل تدابیر اختیار کریں:
نمک کا کم استعمال: نمک بلڈ پریشر کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ کھانے میں اوپر سے نمک ڈالنے کی عادت ترک کر دیں اور ڈبہ بند غذاؤں (Process Food) سے بچیں کیونکہ ان میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔
پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں: کیلا، کھجور اور آلو بخارا ایسی غذائیں ہیں جن میں پوٹاشیم وافر مقدار میں ہوتا ہے۔ پوٹاشیم جسم سے فالتو نمکیات نکالنے اور بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
پیدل چلنا (Physical Activity): روزانہ صرف 30 منٹ کی تیز چہل قدمی آپ کے دل کو مضبوط بناتی ہے اور خون کے بہاؤ کو متوازن رکھتی ہے۔
لہسن کا جادو: نہار منہ لہسن کے ایک سے دو جوے پانی کے ساتھ نگل لینا بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے کسی مہنگی دوا سے کم نہیں۔ یہ خون کو پتلا رکھنے اور شریانوں کی سختی کو دور کرنے میں مددگار ہے۔
جہاں دیسی ٹوٹکے مفید ہیں، وہیں جدید طب کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کو چاہیے کہ:
گھر پر بی پی آپریٹس اور گلوکو میٹر لازمی رکھیں تاکہ باقاعدگی سے چیک اپ ہو سکے۔
ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کو وقت پر لیں اور کبھی بھی خود سے دوا بند نہ کریں۔
سال میں ایک بار گردوں اور آنکھوں کا معائنہ (Screening) ضرور کروائیں۔
شوگر اور بلڈ پریشر کا بہترین علاج "احتیاط” ہے۔ اگر آپ اپنی غذا سے چینی اور نمک کی زیادتی نکال دیں اور روزانہ ورزش کو معمول بنا لیں، تو آپ ان بیماریوں کے باوجود ایک طویل اور خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔ یاد رکھیے، صحت مند طرزِ زندگی ہی آپ کا سب سے بڑا معالج ہے۔
