لکی مروت: سرائے نورنگ بازار میں خوفناک دھماکا، 2 اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید، 18 زخمی

لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں دھماکے کے بعد پولیس موبائل اور تباہ شدہ گاڑیوں کے مناظر
لکی مروت: سرائے نورنگ بازار میں دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، واقعے میں 7 افراد شہید ہوئے

لکی مروت (ویب ڈیسک): خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردی کی بڑی واردات سامنے آئی ہے جہاں سرائے نورنگ بازار میں ایک زوردار دھماکے کے نتیجے میں 2 ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید اور خواتین و بچوں سمیت 18 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

واقعے کی تفصیلات

پولیس ذرائع کے مطابق دھماکا سرائے نورنگ بازار میں پولیس موبائل کے قریب اس وقت ہوا جب وہاں شہریوں کا رش موجود تھا۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اسپتال انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اب تک 7 لاشیں لائی جا چکی ہیں، جن میں 2 ٹریفک اہلکار بھی شامل ہیں۔

امدادی کارروائیاں اور طبی صورتحال

دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو نورنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ:

  • زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

  • اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹروں کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا ہے۔

  • کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث شہداء کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

سیکیورٹی حکام کا موقف

ڈی پی او لکی مروت نذیر خان نے میڈیا کو بتایا کہ دہشت گردوں نے ایک گاڑی کا استعمال کیا جس میں ایک من سے زائد بارودی مواد چھپایا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا:

"دہشت گردوں نے اب معصوم شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ دھماکا خودکش تھا یا ریموٹ کنٹرول آلے کے ذریعے کیا گیا۔”

حکومتی مذمت اور رپورٹ طلب

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت پیچھے نہیں ہٹے گی۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی لکی مروت دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے عفریت کا سر کچلنے کے لیے پوری قوم یکجان ہے اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے