7 اگست کو ملک بھر کی شاہراہیں بند کرنے کا اعلان: جماعت اسلامی کا پیٹرولیم مصنوعات اور ٹیکسوں کے خلاف پرامن احتجاج کا فیصلہ

لاہور (ویب ڈیسک / نیوز ڈیسک) — جماعت اسلامی پاکستان نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ظالمانہ ٹیکسز و لیوی کے خلاف آئندہ 7 اگست کو ملک گیر احتجاج اور تمام صوبائی و ضلعی ہیڈکوارٹرز میں اہم شاہراہیں بند کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
منصورہ لاہور میں ایک اہم اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی من مانی قیمتوں کو "معاشی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے عوام، تاجروں، وکلا، طلبہ اور سول سوسائٹی سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی ہے۔
⛽ "ٹیکسز ختم کیے جائیں تو پیٹرول 250 روپے لیٹر ہو سکتا ہے”
پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:
"عالمی جنگوں اور بحرانوں کا بہانہ بنا کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ شہباز شریف صاحب بتائیں کہ پیٹرول پر عائد ظالمانہ لیوی اور ٹیکسوں کا جنگ سے کیا تعلق ہے؟ اگر حکومت یہ ناجائز ٹیکس ختم کر دے تو ملک میں پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔”
انہوں نے اوگرا (OGRA) کو پیٹرولیم قیمتوں کے روزانہ کی بنیاد پر تعین کا اختیار دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کی مد میں سالانہ 1,800 ارب روپے وصول کر کے اس کا پورا بوجھ موٹر سائیکل سواروں، مزدوروں اور متوسط طبقے پر ڈال رہی ہے۔
🛑 7 اگست کو شاہراہوں کی بندش اور احتجاج کا روڈ میپ
حافظ نعیم الرحمن نے ملک گیر احتجاج کے مراحل کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا:
ابتدائی مرحلہ: ملک بھر میں کارنر میٹنگز، بیداری مہم اور دھرنے دیے جائیں گے۔
مرکزی احتجاج (7 اگست): پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز کی اہم شاہراہیں بند کی جائیں گی۔
پرامن احتجاج کی ضمانت: انہوں نے واضح کیا کہ یہ احتجاج مکمل پرامن ہوگا اور ایمبولینسز و مریضوں کو ہر صورت راستہ دیا جائے گا۔
احتجاج کی وسعت: اس تحریک میں تاجر، صنعت کار، وکلا، طلبہ، علماء اور تمام مکاتبِ فکر کے لوگ شرکت کریں گے۔
🏛️ اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ اور آئی پی پیز (IPPs) معاہدے
امیر جماعت اسلامی نے ملک کی معاشی زبوں حالی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی دفاعی بجٹ کے خلاف نہیں، تاہم اشرافیہ پر ٹیکس لگائے بغیر عام آدمی کو نچوڑنا اب قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
مراعات پر تنقید: انہوں نے ججوں، اعلیٰ فوجی و سول افسران، بیوروکریسی اور ارکانِ اسمبلی کو دی جانے والی مفت مراعات اور شاہانہ اخراجات کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
IPPs کا مسئلہ: انہوں نے آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ ہونے والے معاہدوں میں شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو اس بجلی کی قیمت بھی ادا کرنی پڑ رہی ہے جو پیدا ہی نہیں ہو رہی۔
صحت و تعلیم کی نجی کاری: انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں اور بنیادی مراکزِ صحت کی نجی کاری اور نام کی تبدیلی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ صوبے میں غربت تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
🇵🇰 بلوچستان، آزاد کشمیر اور قومی سیاست پر موقف
بلوچستان کی حساس صورتحال اور آئینی بحرانوں پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے درج ذیل اہم نکات پیش کیے:
بلوچستان کا حل: محض "بیرونی ہاتھ” کا الزام تراشی کر کے ریاست اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ اس مسئلے کا واحد حل تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات ہیں، جس کے لیے جماعت اسلامی جلد ایک گرینڈ قومی کانفرنس منعقد کرے گی۔
آزاد جموں و کشمیر: آزاد کشمیر کے مسائل اور سیاسی تنازعات کا حل آئینی، جمہوری اور مذاکراتی طریقہ کار کے تحت تلاش کیا جائے۔
سیاسی بیانات پر ردِعمل: انہوں نے خواجہ آصف کے حالیہ بیان پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے روکنے کی کوشش کی تو یہ تحریک ایک پورنی حکومت مخالف تحریک کا روپ دھار لے گی جس کا متحمل موجودہ اقتدار نہیں ہو سکے گا۔