بھارت نے سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیے؛ دریائے چناب میں طغیانی، سیالکوٹ اور وزیر آباد میں فلڈ الرٹ جاری

سلال ڈیم سے پانی کے اخراج اور دریائے چناب میں سیلابی صورت حال کی منظر کشی۔

بھارت کی جانب سے سلال ڈیم کے گیٹ کھولے جانے کے بعد دریائے چناب میں طغیانی اور نچلے علاقوں میں سیلابی خطرہ۔

خاص رپورٹ (اردو ڈیسک): مقبوضہ جموں و کشمیر اور بالائی علاقوں میں مسلسل اور شدید بارشوں کے باعث بھارت نے دریائے چناب پر واقع سلال ڈیم (Salal Dam) کے تمام سپل وے گیٹ کھول دیے ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں کیوسک کا سیلابی ریلا پاکستان کی حدود کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ صورتِ حال کی انتہائی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) اور محکمہ آبپاشی پنجاب نے سیالکوٹ، وزیر آباد، گوجرانوالہ اور اطراف کے اضلاع میں سیلابی ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

پانی کا بڑا ریلا ہیڈ مرالہ کی طرف گامزن

فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق بھارت کی جانب سے سلال ڈیم سے یکدم پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ سیلابی ریلا آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں سیالکوٹ کے مقام پر ہیڈ مرالہ اور بعد ازاں وزیر آباد میں داخل ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بالائی علاقوں سے آنے والے اس ریلے کے باعث ہیڈ مرالہ پر "اونچے سے انتہائی اونچے درجے” کا سیلاب آنے کا خدشہ ہے، جس سے دریائے چناب سے ملحقہ سو سے زائد دیہات، زرعی زمینیں اور نشیبی آبادیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

مقامی ندی نالوں میں بھی طغیانی کا خطرہ

صرف دریائے چناب ہی نہیں بلکہ سیالکوٹ، نارووال اور گجرات کی حدود سے گزرنے والے برسات ندی نالے بھی شدید خطرے کی زد میں ہیں۔

  • نالہ ڈیک، نالہ ایک، نالہ پلکھو اور جموں تاوی میں مقبوضہ کشمیر کے پہاڑی سلسلے سے آنے والے برسات پانی کی وجہ سے پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔

  • مقامی انتظامیہ نے نالیوں اور نالوں کے قریبی رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

انتظامیہ کا ایکشن اور ریسکیو آپریشنز کی تیاری

سیالکوٹ اور وزیر آباد کے ڈسٹرکٹ کمشنرز نے تمام متعلقہ اداروں، بلدیاتی عملے اور ریسکیو 1122 کو چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔

انتظامی اقدامات کی نمایاں باتیں:

  • فلڈ ریلیف کیمپس: متاثرہ علاقوں کے قریب سرکاری اسکولوں اور محفوظ عمارتوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔

  • فوری انخلا: نشیبی علاقوں اور دریا کے پیٹ (کچے کے علاقوں) میں مقیم آبادیوں کو مویشیوں اور سامان سمیت محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

  • میڈیکل اور مویشی کیمپس: محکمہ صحت اور لائیو اسٹاک کی ٹیمیں ادویات اور ویکسینیشن کا سامان لے کر فیلڈ میں پہنچ چکی ہیں۔

شہری کیا احتیاط کریں؟ (عوامی آگاہی)

پی ڈی ایم اے اور ریسکیو حکام نے شہریوں اور کسانوں کے لیے درج ذیل ہدایات جاری کی ہیں:

  1. دریاؤں اور نالوں سے دوری: دریائے چناب، نہروں اور سیلابی نالوں کے کنارے جانے اور سیر و تفریح سے مکمل پرہیز کریں۔

  2. برق رفتار خبروں پر نظر: صرف سرکاری اور مستند ذرائع سے جاری کردہ سیلابی اطلاعات پر بھروسہ کریں اور افواہوں پر دھیان نہ دیں۔

  3. ایمرجنسی رابطہ: کسی بھی ناگہانی آفت، پانی گھروں میں داخل ہونے یا پھنس جانے کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 یا مقامی کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔

محکمہ آبپاشی اور محکمہ موسمیات ڈیموں میں پانی کی آمد و اخراج کی منٹ بہ منٹ نگرانی کر رہے ہیں اور آنے والے چوبیس گھنٹے پنجاب کے ان اضلاع کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے