لاہور میں آوارہ کتوں کی یلغار، شہری خوف میں مبتلا

مریم نواز کی تصویر کے ساتھ سڑک پر کھڑا آوارہ کتا، لاہور میں آوارہ کتوں کے مسئلے کی نمائندگی کرتا ہوا منظر
لاہور میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد شہریوں کیلئے خوف اور پریشانی کا باعث بن چکی ہے جبکہ حکومت پر مؤثر اقدامات کیلئے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

لاہور (خصوصی رپورٹ)

صوبائی دارالحکومت Lahore میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں روزانہ کتوں کے کاٹنے کے درجنوں واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، مگر متعلقہ ادارے اور حکومت اس خطرناک صورتحال پر مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں یہ مسئلہ ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

لاہور کے رہائشی علاقوں، گلی محلوں، بازاروں، پارکوں اور حتیٰ کہ تعلیمی اداروں کے اطراف بھی آوارہ کتوں کے غول دندناتے پھر رہے ہیں۔ صبح سویرے اسکول جانے والے بچے، نماز کے لیے جانے والے بزرگ اور رات گئے گھروں کو واپس آنے والے شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ کئی علاقوں میں شہریوں نے شکایت کی ہے کہ کتوں کے جھنڈ حملہ آور ہو جاتے ہیں اور موٹر سائیکل سواروں تک کو گرا دیتے ہیں۔

روزانہ درجنوں افراد زخمی

ذرائع کے مطابق شہر کے سرکاری اسپتالوں میں روزانہ کتوں کے کاٹنے کے متعدد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ متاثرہ افراد میں بچوں کی تعداد نمایاں ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی دستیابی بھی ایک مستقل مسئلہ بنی ہوئی ہے، جس کے باعث متاثرہ خاندانوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق کتے کے کاٹنے کے بعد بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں ریبیز جیسی خطرناک بیماری جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اس مسئلے کو محض ایک بلدیاتی خرابی نہیں بلکہ ایک سنگین عوامی صحت کا بحران قرار دے رہے ہیں۔

شہریوں کا حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ

متعدد شہریوں نے حکومت پنجاب اور بلدیاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف وقتی مہمات یا نمائشی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ ایک مستقل اور منظم پالیسی کی ضرورت ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی شہری حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ روزانہ پیش آنے والے واقعات کے باوجود حکام کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

آوارہ کتوں کے مسئلے کے ممکنہ حل

ماہرین کے مطابق حکومت اگر سنجیدگی سے کام کرے تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے درج ذیل اقدامات مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں:

1۔ خصوصی ڈاگ کنٹرول ٹیموں کی تشکیل

ہر ٹاؤن اور یونین کونسل کی سطح پر تربیت یافتہ ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو آوارہ کتوں کی نشاندہی اور انہیں محفوظ طریقے سے پکڑنے کا کام کریں۔

2۔ خطرناک کتوں کی فوری تلفی

ایسے آوارہ اور بیمار کتے جو شہریوں کے لیے خطرہ بن چکے ہوں، انہیں ویٹرنری ماہرین کی نگرانی میں انسانی اصولوں کے مطابق تلف کیا جائے تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔

3۔ کتوں کی افزائش روکنے کے اقدامات

ماہرین کے مطابق صرف کتوں کو مارنے سے مسئلہ مستقل حل نہیں ہوگا۔ حکومت کو بڑے پیمانے پر نس بندی (Sterilization) پروگرام شروع کرنا ہوگا تاکہ آوارہ کتوں کی آبادی میں کمی لائی جا سکے۔

4۔ کوڑا کرکٹ کے نظام میں بہتری

شہر میں جگہ جگہ پڑا کچرا آوارہ کتوں کی افزائش کا بڑا سبب ہے۔ اگر صفائی کا نظام بہتر بنایا جائے تو کتوں کی بڑی تعداد خود بخود کم ہو سکتی ہے۔

5۔ اینٹی ریبیز ویکسین کی فراہمی

تمام سرکاری اسپتالوں میں ریبیز ویکسین کی وافر مقدار میں دستیابی یقینی بنائی جائے تاکہ متاثرہ افراد کو فوری علاج فراہم ہو سکے۔

6۔ عوامی آگاہی مہم

شہریوں کو یہ شعور دیا جائے کہ آوارہ جانوروں کے ساتھ کس طرح احتیاط برتی جائے اور کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طبی امداد کیوں ضروری ہے۔

ماہرین کی تشویش

ویٹرنری اور صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو آنے والے مہینوں میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں آوارہ کتوں کی تعداد اور ان کے حملوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ عوام کو خوف اور عدم تحفظ کی فضا سے نجات مل سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے