حکومت حاجیوں کی جاسوسی کرنے لگی، اسمارٹ واچز کی لازمی فراہمی پر تہلکہ خیز انکشافات

نئی دہلی (خصوصی رپورٹ)
بھارت کی مودی حکومت کے مبینہ مسلمان مخالف ہتھکنڈوں میں ایک اور سنگین باب کا اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک بھارتی اخبار اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حج پر گئے لاکھوں بھارتی مسلمانوں کی ڈیجیٹل نگرانی اور جاسوسی کا ایک متنازع سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، جس نے مسلم تنظیموں اور حقوقِ انسانی کے حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے رواں سال 1 لاکھ 22 ہزار سے زائد عازمینِ حج کے لیے ایک نجی کمپنی کی تیار کردہ اسمارٹ واچ (Smart Watch) پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بظاہر "عازمین کی حفاظت اور لوکیشن ٹریکنگ” کے نام پر شروع کی گئی اس اسکیم کے پیچھے چھپے مقاصد پر اب شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اخبار نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا مودی حکومت اسمارٹ ٹیکنالوجی کی آڑ میں بھارتی مسلمانوں کی لائیو لوکیشن اور ذاتی ڈیٹا کی جاسوسی کر رہی ہے؟
نجی کمپنی کی ایپ اور ڈیٹا سیکیورٹی پر تشویش
ٹیکنالوجی ماہرین اور حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان اسمارٹ واچز میں ایک نجی کمپنی کی ایپلی کیشن (App) شامل ہے، جس کے ذریعے عازمین کی نقل و حرکت، لائیو لوکیشن اور دیگر حساس ڈیٹا براہِ راست ایک پرائیویٹ سرور پر مانیٹر ہو رہا ہے۔ ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ اس حساس ڈیٹا تک بیک اینڈ (Backend) پر کس کس کو رسائی حاصل ہے اور اس کا مستقبل میں کیا استعمال ہوگا؟ اس حوالے سے کوئی شفافیت سامنے نہیں آئی۔
سعودی قوانین اور متبادل ٹیکنالوجی کا تنازع
رپورٹ میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مخصوص مقامات پر ڈیجیٹل ریکارڈنگ پر سخت پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں عازمین کو لائیو ٹریکنگ ڈیوائسز پہننے پر مجبور کرنا سعودی سیکیورٹی پروٹوکولز کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔ مزید برآں، جب سعودی حکومت کی اپنی آفیشل ایپس اور اسمارٹ کارڈز پہلے سے موجود ہیں، تو مودی حکومت کی جانب سے الگ سے پرائیویٹ کمپنی کی گھڑیاں تھوپنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
سہولت کے نام پر زحمت اور کروڑوں کا نفع بخش کاروبار؟
دوسری جانب حج پر گئے عازمین کی طرف سے زمینی سطح پر شدید شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسمارٹ واچز کی بیٹری نہایت ناقص ہے جو بمشکل دو سے تین گھنٹے چلتی ہے، جس کی وجہ سے بزرگ اور ٹیکنالوجی سے ناواقف حجاج شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
عازمینِ حج کی خدمت کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہر حاجی کے پیکیج سے اس گھڑی کے نام پر لگ بھگ 4 ہزار سے 5 ہزار روپے سے زائد کٹوتی کی گئی ہے، جس کا مجموعی حجم کروڑوں روپے بنتا ہے۔ مسلم رہنماؤں کا اندیشہ ہے کہ عازمین کی سہولت کا بہانہ بنا کر جہاں ایک طرف ان کی جاسوسی کا نیٹ ورک بنایا گیا، وہیں دوسری طرف ایک نجی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کروڑوں روپے کا نفع بخش کاروبار چمکایا گیا ہے۔
طیار کردہ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد مسلم حلقوں، سول سوسائٹی اور اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے حج کمیٹی آف انڈیا اور وزارتِ اقلیتی امور سے فوری اور باضابطہ وضاحت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تاہم حکام نے اس سنگین معاملے پر فی الحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
