زیادہ تر مرد فراڈ ہوتے ہیں، خواتین انہیں بدلنے کا وہم چھوڑ دیں: فرحان سعید

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے معروف اور ہر دلعزیز گلوکار و اداکار فرحان سعید نے مردوں کے رویوں اور رشتوں کے حوالے سے کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے میں زیادہ تر مرد فراڈ ہوتے ہیں، اس لیے خواتین کو کسی بھی رشتے میں اپنی ذات اور عزتِ نفس کو قربان کرنے کے بجائے خود کو ترجیح دینی چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق فرحان سعید حال ہی میں اپنی آنے والی نئی فلم کی تشہیر کے سلسلے میں معروف اداکارہ مامیا شجافر کے ہمراہ ایک نجی ٹی وی شو میں شریک ہوئے۔ دورانِ گفتگو جب رشتوں میں دھوکے اور مردوں کے رویوں کا تذکرہ ہوا، تو مامیا شجافر نے کہا کہ زیادہ تر لڑکے جھوٹے وعدوں اور سبز باغ دکھا کر لڑکیوں کو دھوکا دیتے ہیں۔
مامیا شجافر کی بات سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے فرحان سعید نے ایک چونکا دینے والا مؤقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ صرف چند نہیں بلکہ تقریباً تمام مرد ہی فراڈ ہوتے ہیں۔ انہوں نے خواتین کو مخلصانہ مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو سب سے پہلے خود سے محبت کرنی چاہیے اور زندگی میں اپنی خوشی، سکون اور عزتِ نفس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے نامور اداکار نے رشتوں میں حد سے زیادہ لچک دکھانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی رشتے کو بچانے کے لیے اپنی ذات کو مکمل طور پر قربان کر دینا دانشمندی نہیں اور نہ ہی دھوکا دینے والے مردوں کو بار بار معاف کر کے مواقع دینا درست عمل ہے۔
فرحان سعید نے خواتین کی ایک عام نفسیات پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ اکثر خواتین یہ سوچتی ہیں کہ وہ اپنی بے پناہ محبت، دیکھ بھال اور توجہ سے کسی بھی مرد کو بدل دیں گی، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو مردوں کی اصلاح کرنے یا انہیں ‘بچانے والا رویہ’ (Savior Complex) اب ترک کر دینا چاہیے کیونکہ اس کوشش میں ہمیشہ سب سے زیادہ نقصان خود خواتین کا ہی ہوتا ہے۔
انٹرویو کے دوران فرحان سعید نے اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا کہ بعض اوقات مرد بھی چالاک خواتین کے ہاتھوں دھوکا کھاتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں، تاہم اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو معاشرے کے زیادہ تر معاملات میں خواتین ہی مردوں کے سخت اور منافقانہ رویوں کی وجہ سے ذہنی و جذباتی تکلیف کا شکار ہوتی ہیں۔
فرحان سعید کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے جہاں مداحوں اور صارفین کی جانب سے رشتوں کی حقیقت اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
