مناسکِ حج کا آغاز: ‘لبیک’ کی صداؤں سے گونجتا خیموں کا شہر منیٰ عازمین سے بھر گیا

مکہ مکرمہ: دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں اسلام کے پروانوں نے مناسکِ حج کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ مکہ مکرمہ سے عازمینِ حج کی بڑی تعداد خیموں کے خوبصورت شہر ‘منیٰ’ پہنچ چکی ہے، جہاں ہر طرف "لبیک اللہم لبیک” کی روح پرور صدائیں گونج رہی ہیں اور فضا ایمان افروز منظر پیش کر رہی ہے۔
عازمینِ حج کی منیٰ آمد کا یہ سلسلہ پورا دن جاری رہے گا، جس کے بعد تمام حجاج کرام پیر اور منگل کی درمیانی شب منیٰ میں ہی قیام کریں گے اور رات بھر عبادات میں مصروف رہیں گے۔
حج کا رکنِ اعظم: وقوفِ عرفہ کل ہوگا
منیٰ میں رات کے قیام کے بعد، منگل 9 ذی الحج کو فجر کے بعد تمام عازمینِ حج کا یہ عظیم الشان اجتماع حج کے سب سے اہم اور بنیادی رکن ‘وقوفِ عرفہ’ کی ادائیگی کے لیے میدانِ عرفات کی جانب پیش قدمی کرے گا۔ جہاں حجاج کرام خطبہِ حج سنیں گے اور ظہر و عصر کی نمازیں ایک ساتھ قصر کر کے ادا کریں گے۔
مکہ اور اطراف میں شدید لو کی وارننگ: پارہ 47 تک جانے کی پیشگوئی
دوسری جانب، سعودی عرب کے محکمہ موسمیات نے حج کے ان اہم ایام کے دوران مکہ مکرمہ اور اس کے قریبی مقدس مقامات میں شدید گرمی کی لہر (Heatwave) کی وارننگ جاری کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق:
حج کے دوران درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا قوی امکان ہے۔
ہوا میں نمی کا تناسب لگ بھگ 40 فیصد تک رہے گا۔
کچھ مقامات پر تیز اور گرد آلود ہوائیں چلنے کی بھی توقع ہے۔
سعودی وزارتِ صحت کی حجاج کو احتیاطی تدابیر کی اپیل
شدید ترین گرمی اور لو کے پیشِ نظر، سعودی حکام اور وزارتِ صحت نے عازمین کے لیے خصوصی ہیلتھ ایڈوائزری جاری کی ہے تاکہ وہ ہیٹ اسٹروک سے محفوظ رہ سکیں:
دھوپ سے بچیں: عازمینِ حج دن کے وقت غیر ضروری طور پر کھلی دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔
چھتری کا استعمال: باہر نکلتے وقت ہر صورت سایہ دار جگہوں کا انتخاب کریں اور اپنے پاس چھتری لازمی رکھیں۔
پانی کا کثرت سے استعمال: جسم میں نمکیات اور پانی کی کمی سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی اور او آر ایس (ORS) کا استعمال کریں۔
طبی ہدایات پر عمل: کسی بھی قسم کی طبیعت خراب ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی طبی کیمپ سے رجوع کریں۔
15 لاکھ سے زائد غیر ملکی عازمین کی آمد
سعودی عرب کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال دنیا کے مختلف ممالک سے فضائی، بحری اور بری راستوں کے ذریعے مکہ مکرمہ پہنچنے والے حجاج کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں بڑی تعداد فضائی سفر کے ذریعے پہنچی ہے۔
سعودی حکومت کی جانب سے مقدس مقامات پر زائرین کی سہولت کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے راستوں میں بڑے سائز کے کولنگ فینز (پانی کی پھوار پھینکنے والے پنکھے) لگائے گئے ہیں اور جگہ جگہ پینے کے صاف و ٹھنڈے پانی اور طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ اللہ کے مہمان سکون و اطمینان کے ساتھ اپنے مناسک ادا کر سکیں۔
