آغازِ سالِ نو اور غمِ حسینؑ کی دستک

اسلامی سال 1448 ہجری کا آغاز ایک ایسے مہینے سے ہو رہا ہے جو تاریخِ اسلام میں عظمت، قربانی اور حق کی سربلندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یکم محرم الحرام بروز بدھ، 17 جون 2026 کو نئے ہجری سال کا آغاز ہوگا۔ یہ وہ لمحہ ہے جب دنیا بھر کے مسلمانوں، خصوصاً عشاقِ اہلِ بیتؑ کے دلوں میں کربلا کی یادیں ایک بار پھر تازہ ہو جاتی ہیں۔
چاندِ محرم کے طلوع ہوتے ہی فضا میں سوگ، عقیدت اور احترام کا رنگ نمایاں ہونے لگتا ہے۔ امسال یومِ عاشورہ، یعنی 10 محرم الحرام، بروز جمعہ 26 جون 2026 کو منایا جائے گا۔ یہی وہ دن ہے جس نے حق و باطل کے معرکے کو ہمیشہ کے لیے تاریخ میں امر کر دیا۔
کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسی دائمی تحریک ہے جو ہر دور کے انسان کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے اور حق کا ساتھ دینے کا درس دیتی ہے۔
بقول شاعر:
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ
عشرۂ محرم: دس دن اور ایک لازوال داستان
محرم الحرام کے پہلے دس دن دنیا بھر میں مجالسِ عزا، ذکرِ شہادت اور یادِ کربلا کے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ ان ایام میں امام حسینؑ، اہلِ بیتِ اطہارؑ اور ان کے وفادار اصحاب کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔
یکم تا سات محرم
کربلا کے میدان میں امام حسینؑ کے قافلے پر یزیدی لشکر کی جانب سے دباؤ بڑھتا ہے۔ اہلِ بیتؑ اور رفقا پر سختیاں شروع ہو جاتی ہیں اور پانی کی بندش کی تیاریاں کی جاتی ہیں۔
سات اور آٹھ محرم
فرات کا پانی بند کر دیا جاتا ہے۔ ان دنوں حضرت عباس علمدارؑ کی وفاداری، شجاعت اور سقائی کا ذکر خصوصی طور پر کیا جاتا ہے۔
نو محرم (تاسوعا)
محاصرہ مزید سخت ہو جاتا ہے۔ شبِ عاشور آتی ہے، وہ تاریخی رات جب امام حسینؑ نے اپنے ساتھیوں کو واپسی کی اجازت دی، مگر سب نے وفاداری اور جانثاری کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔
دس محرم (یومِ عاشورہ)
یہ وہ دن ہے جب امام حسینؑ نے اپنے اہلِ خانہ اور اصحاب کی عظیم قربانیوں کے بعد خود راہِ حق میں جان کا نذرانہ پیش کیا۔ حضرت علی اکبرؑ، حضرت عباسؑ، حضرت قاسمؑ اور حضرت علی اصغرؑ سمیت خاندانِ نبوت کے چشم و چراغ ایک ایک کر کے شہید ہوئے، مگر حق کا پرچم سرنگوں نہ ہوا۔
کربلا کا آفاقی پیغام
امام حسینؑ کی قربانی کسی ایک مسلک، قوم یا خطے تک محدود نہیں۔ کربلا انسانیت کے ضمیر کی آواز ہے، جو ہر دور میں ظلم کے خلاف مزاحمت اور حق کے لیے استقامت کا درس دیتی ہے۔
اسی لیے برصغیر کے عظیم شعرا نے بھی اس پیغام کو اپنی شاعری میں زندہ رکھا۔
علامہ اقبالؒ
علامہ محمد اقبالؒ نے امام حسینؑ کی قربانی کو اسلام کی بقا کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؑ، ابتدا ہے اسماعیلؑ
اور ایک اور مقام پر کہتے ہیں:
زندہ حق از قوتِ شبیری است
باطل آخر داغِ حسرت میری است
یعنی حق کی زندگی امام حسینؑ کی قوتِ کردار سے قائم ہے جبکہ باطل کا انجام ہمیشہ حسرت اور ناکامی ہے۔
خواجہ معین الدین چشتیؒ
برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ خواجہ غریب نوازؒ نے امام حسینؑ کے مقام کو ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا:
شاہ است حسینؑ، بادشاہ است حسینؑ
دین است حسینؑ، دین پناہ است حسینؑ
سر داد، نہ داد دست در دستِ یزید
حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسینؑ
عزاداری: یادِ کربلا کی تجدید
محرم الحرام کے یہ دن ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حق اور انصاف کے لیے قربانی دینا ہی حسینی پیغام ہے۔ مجالسِ عزا، ماتمی جلوس، سبیلیں اور نیازِ حسینؑ صرف رسومات نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید ہیں کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور حق کا ساتھ دینا ہر دور میں ضروری ہے۔
جون 2026 کی تپتی ہوئی گرمی ہمیں کربلا کی اُس جلتی ہوئی ریت اور تین دن کی پیاس کی یاد دلاتی ہے جسے اہلِ بیتِ رسول صلی اللہ علیہ والۃ وسلم نے صبر، استقامت اور رضا الٰہی کے ساتھ برداشت کیا، مگر حق کے راستے سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹے۔
سلام ہو امام حسین علیہ السلام، اہلِ بیتِ اطہارؑ اور ان کے وفادار رفقا پر، جنہوں نے اپنے خون سے حق، انصاف اور انسانیت کی تاریخ رقم کی۔
