بلدیاتی خلاء: 52 فیصد آبادی کے آئینی حق پر شب خون

پینجاب میں بلدیاتی خلاء
پاکستان کی مجموعی آبادی کا تقریباً 52 فیصد حصہ رکھنے والا صوبہ پنجاب، اس وقت ایک ایسے سنگین بحران سے گزر رہا ہے جس پر حکمران طبقے نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ یہ بحران کسی بیرونی سازش یا مالیاتی فنڈ کی شرط کا نتیجہ نہیں، بلکہ خود ہماری اپنی صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی پیدا کردہ "جمہوریت دشمنی” کا شاخسانہ ہے۔ پنجاب میں بلدیاتی اداروں کا عدم قیام محض ایک انتظامی سستی نہیں، بلکہ اس صوبے کی کروڑوں کی آبادی کے بنیادی، آئینی اور جمہوری حقوق پر ایک منظم شب خون ہے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-A واضح طور پر ہر صوبے کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ ایک ایسا بلدیاتی نظام قائم کرے جس میں سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات عوامی نمائندوں کو منتقل کیے جائیں۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والی سیاسی اشرافیہ جب خود اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھتی ہے، تو اسے نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی ایک ڈراونا خواب نظر آنے لگتی ہے۔ پنجاب جیسے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کو گزشتہ کئی برسوں سے لوکل گورنمنٹ کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ بیوروکریسی کے ذریعے کروڑوں عوام کے مقدر کے فیصلے بند کمروں میں کیے جا رہے ہیں، جو کہ سراسر آئینِ پاکستان کی روح کے منافی ہے۔
حکومت پر سخت تنقید اس لیے بھی واجب ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات سے اس طرح بھاگ رہی ہے جیسے کوئی مجرم قانون سے بھاگتا ہے۔ کبھی نئی حلقہ بندیوں کا بہانہ بنایا جاتا ہے، کبھی فنڈز کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے، تو کبھی قانون سازی میں دانستہ پیچیدگیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکمران جماعتوں کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر گلی محلوں کی سطح پر انتخابات ہوئے تو ان کا خاندانی اور مرکزیت پسند سیاسی تسلط برقرار نہیں رہے گا۔ وہ ترقیاتی فنڈز کو اپنے من پسند ارکانِ اسمبلی (MNAs اور MPAs) میں بانٹنا چاہتے ہیں تاکہ اگلا عام انتخاب جیتا جا سکے، جبکہ سڑکیں بنانا، نالیاں صاف کرنا اور پینے کا صاف پانی فراہم کرنا بنیادی طور پر بلدیاتی نمائندوں کا کام ہے، نہ کہ قانون سازوں کا۔
اس مجرمانہ غفلت کا خمیازہ پنجاب کا عام شہری بھگت رہا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں سے لے کر جنوبی پنجاب کے پسماندہ دیہاتوں تک، عوام بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں۔ جب ایک عام شہری کے محلے کا سیوریج نظام ٹھپ ہوتا ہے یا اسکول کی دیوار گرتی ہے، تو وہ کس کے پاس جائے؟ کیا وہ ایک ایم پی اے کے ڈیرے کے چکر کاٹے جو مہینوں اپنے حلقے میں نظر نہیں آتا؟ بلدیاتی ادارے دراصل عوام اور ریاست کے درمیان پہلا اور سب سے مضبوط پل ہوتے ہیں۔ حکومت نے اس پل کو گرا کر عوام کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔ انتظامی امور افسر شاہی (بیوروکریسی) کے رحم و کرم پر ہیں، جن کا عوام کے سامنے کوئی احتساب نہیں ہوتا اور جو صرف اوپر بیٹھے وزراء اعلیٰ اور وزراء کو جوابدہ ہوتے ہیں۔
حکومت کی یہ روش نہ صرف عوام دشمن ہے بلکہ جمہوریت کی نرسری کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ دنیا بھر میں نئی سیاسی قیادت بلدیاتی اداروں سے ابھرتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ قیادت، جو خود کو ملک کا خیر خواہ کہتی ہے، دراصل ایک ایسی سیاسی بانجھ پن کو فروغ دے رہی ہے جہاں عام آدمی کا سیاست میں اوپر آنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ پنجاب کی 52 فیصد آبادی اس سیاسی منافقت کو مسترد کرے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کو بھی اس معاملے پر سخت ترین نوٹس لینا چاہیے، کیونکہ یہ کروڑوں انسانوں کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ حکومت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ میٹرو بسیں، اڑتی گاڑیاں اور چند بڑے منصوبے عوام کو وہ ریلیف نہیں دے سکتے جو ان کے دہلیز پر بلدیاتی نمائندے دے سکتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کا فوری انعقاد کوئی آپشن نہیں، بلکہ حکومت پر ایک آئینی قرض ہے، اور اگر حکومت یہ قرض ادا نہیں کرتی تو تاریخ اسے پنجاب کے عوام کا مجرم لکھے گی۔
