پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں مسلسل اضافہ: عوام پر ‘مہنگائی کے بم’ گرائے جانے کا سلسلہ جاری

خاص رپورٹ (نیوز ڈیسک)
ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اور مسلسل اضافے نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخوں میں جس بے دردی سے تدریجی اضافہ کیا جا رہا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی ایک بار کا ناگہانی جھٹکا نہیں بلکہ عوام پر مسلسل معاشی بوجھ گرانے کا ایک مستقل سلسلہ بن چکا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر بڑھتے نرخ: چند دنوں کا موازنہ
اگر صرف گزشتہ چند ایام کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عوام کی قوتِ خرید کو کس طرح روزانہ کی بنیاد پر نچوڑا جا رہا ہے:
صرف ایک ہفتے کے مختصر ترین عرصے میں پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے سے زائد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 24 روپے سے زائد کا خوفناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پالیسی دباؤ اور مسلسل اضافے کے عوامل
معاشی ماہرین اور باخبر ذرائع کے مطابق اس مسلسل اضافے کے پیچھے صرف عالمی منڈی کی صورتحال ہی نہیں بلکہ اندرونی پالیسیوں کا دباؤ بھی شامل ہے:
ڈیلی پرائسنگ میکانزم کا اثر: قیمتوں کا روزانہ یا قلیل مدتی بنیادوں پر جائزہ لینے کا نیا طریقۂ کار عوام کے لیے وبالِ جان بن چکا ہے۔ عالمی منڈی میں معمولی ترین اضافے کو بھی فوراً مقامی نرخوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے، جبکہ کمی کی صورت میں عوام کو وہ فائدے کبھی اتنی تیزی سے منتقل نہیں ہوتے۔
بین الاقوامی کشیدگی اور خام تیل: خلیجِ فارس اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل جیو پولیٹیکل کشیدگی کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جس کا تمام تر دباؤ ترقی پذیر ممالک کے عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔
عوام کی چیخیں اور افراطِ زر کا طوفان
عوامی و کاروباری حلقوں کا شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ قیمتیں کسی ناگہانی واقعے کی طرح ایک بار نہیں گریں، بلکہ قیمتوں کو مسلسل اور روزانہ کی بنیاد پر بڑھا کر عوام کی برداشت کا امتحان لیا جا رہا ہے۔
ڈیزل کے نرخوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں گراں قدر اضافہ ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں سبزیوں، پھلوں، راشن اور بنیادی ضرورت کی ہر شے کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔
ریلیف کا مطالبہ
عوام اور تمام تر تجارتی تنظیموں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بڑھانے کی اس پالیسی پر فوری نظرِ ثانی کی جائے اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور ٹیکسوں میں کٹوتی کر کے عوام کو مسلسل بننے والے اس معاشی دباؤ سے نجات دلائی جائے۔