نادرا نے جدید کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کرا دیا

نادرا کا کیو آر کوڈ پر مبنی نیا چِپ کے بغیر قومی شناختی کارڈ
نادرا نے درآمدی مائیکرو چِپ کے بغیر پاکستان میں تیار کردہ جدید QR کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کرا دیا۔

 

شائع شدہ: 16 اگست 2026ء | اسلام آباد | خصوصی رپورٹ
اسلام آباد: پاکستان نے ڈیجیٹل شناختی نظام میں خود انحصاری کی جانب ایک اور حتمی اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے برآمدی مائیکرو چِپ پر انحصار ختم کرتے ہوئے مقامی طور پر تیار کردہ جدید، محفوظ اور چِپ کے بغیر کیو آر (QR) کوڈ پر مبنی نیا پولی کاربونیٹ قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے منظوری کے بعد متعارف کرایا گیا یہ نیا کارڈ نہ صرف ملکی خزانے کو بیرونی چِپ کی درآمد پر اٹھنے والے بھاری اخراجات سے بچائے گا بلکہ پاکستان میں ڈیجیٹل تصدیقی عمل کو انتہائی تیز، محفوظ اور ہر عام شہری کے لیے قابلِ رسائی بنا دے گا۔ یہ نیا پولی کاربونیٹ کارڈ سیکیورٹی کے عالمی معيار کے مطابق نیشنل سیکیورٹی پرنٹنگ کمپنی (NSPC) کراچی میں تیار کیا گیا ہے۔

درآمدی چِپ سے نجات اور اسمارٹ تصدیقی نظام

واضح رہے کہ تقریباً 14 برس قبل متعارف کرائے گئے چِپ والے اسمارٹ کارڈز کے استعمال میں بڑی رکاوٹ چِپ ریڈرز اور ان کے مخصوص انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی تھی۔ نئے کارڈ میں مائیکرو چِپ کی جگہ محفوظ کیو آر کوڈ شامل کیا گیا ہے جس نے اس عملی رکاوٹ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اب اس کی تصدیق کسی مخصوص ریڈر کے بجائے نادرا کی PakID موبائل ایپلی کیشن، عام اسمارٹ فونز یا کیمرے سے منسلک سافٹ ویئر کے ذریعے فوری ممکن ہوگی۔

نئے شناختی کارڈ کے نمایاں سیکیورٹی و بصری فیچرز
  • دوہری زبان میں معلومات: کارڈ ہولڈر کا نام اور پتہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں درج ہوگا۔
  • مخصوص شناختی نشانات: کارڈ پر خاندان نمبر کے ساتھ ساتھ معذور افراد، بزرگ شہریوں، اعضاء عطیہ کرنے والے رضاکاروں اور آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کے لیے خاص علامات شامل کی گئی ہیں۔
  • ڈیٹا کی یکسانیت: کیو آر کوڈ سکیننگ کے ذریعے بینک، ٹیلی کام، پولیس اور دیگر ادارے بغیر کسی انسانی غلطی کے نام، پتہ اور دیگر تفصیلات کمپیوٹرائزڈ سسٹمز میں فوری درج کر سکیں گے۔
  • جدید سیکیورٹی فیچرز: کارڈ کے نظر آنے والے اور پوشیدہ سیکیورٹی فیچرز کو جدید ترین جعلسازی سے پاک تکنیک کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اجراء کے مختلف مراحل کا شیڈول

نادرا کی جانب سے نئے کیو آر کوڈ کارڈ کا اجراء مرحلہ وار طریقے سے کیا جائے گا تاکہ تمام سسٹمز کی منتقلی کو ہموار بنایا جا سکے:

مرحلہتاریخِ اجراءتفصیلات و زمرہ جات
پہلا مرحلہ14 اگست 2026سادہ ٹیسلن میٹریئل والے (بغیر چِپ) کارڈ کی جگہ نیا کیو آر کوڈ پولی کاربونیٹ کارڈ جاری ہوگا۔
دوسرا مرحلہجنوری 2027بیرونِ ملک پاکستانیوں کے کارڈز (NICOP) اور جووینائل (Juvenile) کارڈز کی کیو آر کوڈ پر منتقلی۔
آخری مرحلہتوسیعی فیزپاکستان اوریجن کارڈ (POC) کو بھی اسی نئے فارمیٹ پر منتقل کر دیا جائے گا۔
شہریوں کے لیے اہم وضاحت: نادرا حکام کے مطابق تمام شہریوں کے پاس پہلے سے موجود چِپ والے اور دیگر تمام قسم کے شناختی کارڈ اپنی مقررہ میعاد (Expiry Date) تک مکمل طور پر کارآمد اور قانوناً نافذ العمل رہیں گے۔ شہریوں کو فوری طور پر کارڈ تبدیل کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ٹیلی کام آپریٹرز، بینکنگ سیکٹر، اسپتالوں، پاکستان ریلوے اور پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں کو جلد ہی نادرا کی جانب سے مخصوص سافٹ ویئر اور کیو آر ریڈنگ سسٹمز کی رسائی فراہم کر دی جائے گی تاکہ عوامی سطح پر خدمات کی فراہمی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

 

"`

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے