پمز نرسری آتشزدگی: 14 نومولود جاں بحق، تعداد اور شناختی عمل پر سنگین سوالات برقرار

سرخ پس منظر پر واضح اردو خطاطی میں لکھا ہوا سانحہ پمز ہسپتال
سانحہ پمز ہسپتال اسلام آباد: 14 نومولود بچوں کی ہلاکت اور انتظامی غفلت پر خصوصی رپورٹ۔

اسلام آباد — دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MCH) سینٹر میں 26 اگست 2026 کی صبح پیش آنے والا آتشزدگی کا سانحہ پورے ملک کو سوگوار کر گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نرسری میں لگنے والی آگ سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے، تاہم واقعے کے تین روز بعد بھی متاثرہ خاندانوں، اپوزیشن رہنماؤں اور طبی ماہرین کی جانب سے ہلاکتوں کی اصل تعداد، لاشوں کی شناخت کے طریقہ کار اور ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت پر سوالات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

ہسپتال ذرائع اور امدادی اداروں کے مطابق آگ صبح تقریباً پونے سات بجے تیسری منزل پر واقع نرسری/نوزائیدہ انتہائی نگہداشت وارڈ میں لگی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق نرسری میں موجود ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکہ ہوا، جس سے چند سیکنڈوں میں آگ نے پورے کمرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہر انکیوبیٹر کے ساتھ نصب آکسیجن پوائنٹس کی موجودگی نے آگ کو مزید بھڑکانے میں کردار ادا کیا، جبکہ دھواں بچوں کے سانس کی نالیوں میں داخل ہو کر مہلک ثابت ہوا۔

پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق نرسری میں چنگاری صبح 6:38 بجے لگی اور ایک منٹ کے اندر ہی زوردار دھماکے سے چھت گرنے لگی۔ اس وقت وارڈ میں موجود دو ڈاکٹروں اور دو نرسوں نے فوری طور پر ریسکیو کوشش شروع کی اور سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی طلب کیا، جنہوں نے دو مرتبہ اندر جا کر بچوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ ان کوششوں کے نتیجے میں نرسری سے ایک اور ملحقہ کمرے سے چار بچوں سمیت تین مائیں بحفاظت نکالی جا سکیں۔

سول ڈیفنس اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے مطابق فائر ایمرجنسی کال صبح 6:54 پر موصول ہوئی اور فائر بریگیڈ عملہ ایک منٹ میں روانہ ہو گیا، جبکہ چھ فائر گاڑیوں اور چار ایمبولینسوں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ تاہم متاثرہ خاندانوں نے دعویٰ کیا کہ امدادی ٹیمیں موقع پر تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر سے پہنچیں، اور یہ کہ پمز کا اندرونی فائر فائٹنگ نظام بروقت فعال نہ ہو سکا، جس کے باعث ابتدائی طور پر آگ بجھانے کا کام باہر سے آنے والی سی ڈی اے ٹیموں کو کرنا پڑا۔

سرکاری موقف کے مطابق حادثے کے وقت نرسری میں 15 سے 16 نومولود زیر علاج تھے، جن میں سے صرف ایک بچی کو صحت مند حالت میں بچایا جا سکا جبکہ باقی 14 بچے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا اور اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا۔

تاہم واقعے کے اگلے ہی روز حکومتی اعداد و شمار پر شدید تحفظات سامنے آئے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صحت کی رکن ڈاکٹر شازیہ صوبیہ نے پمز کا دورہ کرنے کے بعد دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی اصل تعداد 14 نہیں بلکہ کہیں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال کے عملے، مریضوں اور تیمارداروں سے بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ حادثے کے وقت نرسری میں 40 سے 50 بچے موجود تھے، اور یہ کہ انتظامیہ نے صرف 15 بچوں کی نشاندہی کی ہے جبکہ آگ ان تک محدود نہیں تھی۔ ان کے اس دعوے کی تصدیق پمز کا دورہ کرنے والے پی ٹی آئی رہنما فہیم خان نے بھی کی۔ سوشل میڈیا پر بھی کچھ حلقوں کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد 30 سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

پمز انتظامیہ نے تاہم ان دعووں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہسپتال کی ترجمان ڈاکٹر عنیزہ جلیل کے مطابق تمام 14 جاں بحق بچوں کی لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کی جا چکی ہیں اور صرف ایک بچی زندہ بچائی گئی۔ ماہرین کے مطابق تعداد میں یہ تضاد ممکنہ طور پر گائناکالوجی بلاک کی مجموعی گنجائش — جس میں لیبر روم اور دیگر نرسری وارڈز بھی شامل ہیں — اور صرف آگ سے متاثرہ آئیسولیٹڈ آئی سی یو کمرے کے درمیان الجھن سے جنم لے رہی ہے، تاہم حکام کی جانب سے تاحال اس تضاد کو مکمل طور پر واضح نہیں کیا جا سکا۔

سانحے کے بعد سب سے زیادہ اشتعال انگیز مسئلہ شدید جھلسی ہوئی لاشوں کی شناخت اور ان کی والدین کے حوالے کرنے کے طریقہ کار پر سامنے آیا۔ متعدد متاثرہ خاندانوں نے میڈیا کے سامنے کھل کر یہ الزام عائد کیا کہ ان کے بچوں کی لاشیں مکمل طور پر جھلسی ہوئی حالت میں تھیں، اور اس کے باوجود کسی ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر محض انکیوبیٹر نمبروں یا نرسنگ ریکارڈ کی بنیاد پر انہیں حوالے کر دی گئیں۔ کئی والدین کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے بچوں کے کپڑے دکھانے یا شناخت کی مناسب تصدیق فراہم کرنے کی بجائے صرف زبانی طور پر بتا دیا گیا کہ ان کا بچہ جاں بحق ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر شازیہ صوبیہ نے بھی سوال اٹھایا کہ "مکمل طور پر جلے ہوئے” بچوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر کیسے کی گئی اور انہیں کس بنیاد پر والدین کے حوالے کیا گیا۔ متاثرہ خاندانوں کے مطابق اگر ایسا سانحہ کسی دوسرے ملک میں پیش آتا تو پورا نظام ہل جاتا، جبکہ یہاں محض چند دنوں میں معاملے کو نمٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خاندانوں کی جانب سے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس تنقید کے جواب میں واضح کیا کہ اگر موجودہ انکوائری کمیٹی کی تحقیقات تسلی بخش جوابات فراہم کرنے میں ناکام رہیں تو حقائق کا تعین کرنے کے لیے عدالتی کمیشن بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غفلت میں ملوث کسی بھی فرد کو، چاہے وہ خود وزیر ہی کیوں نہ ہوں، بخشا نہیں جائے گا۔

آتشزدگی کے دوران ریسکیو آپریشن میں تاخیر پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کئی متاثرہ والدین نے دعویٰ کیا کہ جس وقت آگ بھڑکی اس وقت نرسری کا دروازہ بند تھا اور وارڈ میں عملے کا کوئی رکن موجود نہیں تھا، جس کے باعث بروقت ریسکیو ممکن نہ ہو سکا۔ کچھ والدین کے مطابق انہیں خود ہی اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کرنی پڑی کیونکہ کوئی ڈاکٹر یا عملہ تقریباً ایک گھنٹے تک موقع پر نہیں پہنچا۔

نرسری کے قریب موجود ایک عینی شاہد نے بتایا کہ کمرے میں گھنا دھواں بھر چکا تھا اور مریض اندر ہی محصور رہ گئے تھے۔ اسی شاہد کے مطابق انہوں نے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچانے کی کوشش کی، مگر شدید دھوئیں کے باعث وارڈ تک رسائی ممکن نہ رہی، جس پر کچھ افراد نے کھڑکیاں توڑ کر لوگوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی۔ صحافتی رپورٹس کے مطابق پمز کا اندرونی فائر فائٹنگ نظام بروقت متحرک نہ ہو سکا، جس کے باعث بجھانے کا کام مکمل طور پر باہر سے آنے والے سی ڈی اے کے فائر دستوں پر منحصر رہا۔

پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر شازیہ صوبیہ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب گائناکالوجی وارڈ کے ساتھ نئی تعمیر شدہ عمارت میں جدید لیبر روم، نوزائیدہ انتہائی نگہداشت وارڈ اور فعال نرسری پہلے سے موجود تھی، تو بچوں کو پرانی اور غیر محفوظ نرسری میں کیوں رکھا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کو "ناقابلِ تلافی سانحہ” قرار دیتے ہوئے فوری اور غیر جانبدار تحقیقات کا حکم دیا اور سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔ وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا، جبکہ وزیر صحت مصطفیٰ کمال کراچی سے اسلام آباد پہنچ کر تحقیقات کی ذاتی نگرانی کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق سمیت سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ سعودی عرب، ایران، ترکی، فرانس، اسپین، چین، نائیجیریا، افغانستان اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک نے بھی تعزیتی پیغامات بھیجے ہیں۔

انکوائری کمیٹی اب نہ صرف آگ لگنے کی بنیادی وجوہات بلکہ ہلاکتوں کی اصل تعداد میں تضاد، ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر لاشوں کی سپردگی، ایمرجنسی رسپانس میں تاخیر اور نرسری میں حفاظتی انتظامات کی ناکامی جیسے حساس پہلوؤں کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ واقعے کے بعد پمز انتظامیہ نے نئے زچگی کیسز وصول کرنا بند کر دیا، کیونکہ آگ سے نرسری کے 15 بستر مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور نرسری کے کل 50 بستروں میں سے صرف 35 قابلِ استعمال رہ گئے، جس کے باعث مریضوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں ہسپتالوں کے ایئرکنڈیشننگ نظام میں خرابی نے نومولود بچوں کی جان لی ہو۔ جون 2024 میں پنجاب کے سہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے پیڈیاٹرک وارڈ میں اسی نوعیت کی آتشزدگی میں 11 بچے جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور تین سینئر ڈاکٹروں کی گرفتاری کا حکم دیا تھا، کیونکہ تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ ہسپتال میں نصب آگ بجھانے والے آلات کی معیاد ختم ہو چکی تھی۔ پمز سانحہ نے ایک بار پھر ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی معیارات پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔


یہ رپورٹ مختلف مصدقہ نیوز اداروں کی جاری کردہ رپورٹس اور سرکاری بیانات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے