بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب، 30 ووٹ لے کر پیپلز پارٹی کے امیدوار کو شکست

بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد خطاب کرتے ہوئے
آزاد جموں و کشمیر کے 17ویں نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر سید افتخار گیلانی

مظفرآباد (ویب ڈیسک): آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی قانون ساز اسمبلی میں قائد ایوان کا انتخاب جیت کر آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد خان عباسی کو شکست دی۔

وزیراعظم کے انتخاب کے لیے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں 44 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔ نتائج کے مطابق بیرسٹر افتخار گیلانی نے 30 ووٹ حاصل کیے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد خان عباسی کو 14 ووٹ ملے۔ یوں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے اپنے حریف کے مقابلے میں 16 ووٹوں کی واضح برتری حاصل کی۔

وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں ایوان کے مجموعی 46 ووٹوں میں سے 44 ووٹ ڈالے گئے۔ دونوں امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کا مجموعہ بھی 44 بنتا ہے۔

انتخابی عمل میں مسلم لیگ (ن) کے صدر آزاد کشمیر شاہ غلام قادر کی عدم شرکت بھی سیاسی طور پر قابلِ ذکر رہی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق انہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

افتخار گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ تک رسائی کا سفر خاصا غیر معمولی رہا۔ 2026 کے عام انتخابات میں وہ مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 29 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار تھے، تاہم انہیں پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد خان عباسی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

انتخابی نتائج کے مطابق سردار مختار احمد خان عباسی نے 20,045 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ افتخار گیلانی 16,507 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

عام نشست پر شکست کے بعد مسلم لیگ (ن) نے افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر امیدوار بنایا، جہاں وہ دوبارہ قانون ساز اسمبلی کا حصہ بن گئے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے اس نشست کے انتخاب میں 26 ووٹ حاصل کیے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو 12 ووٹ ملے۔

یوں چند ہی ہفتوں میں عام انتخابی شکست کے بعد مخصوص نشست کے ذریعے اسمبلی میں واپسی اور پھر وزارتِ عظمیٰ حاصل کرنا ان کے سیاسی سفر کا ایک غیر معمولی موڑ بن گیا۔

بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کا تعلق مظفرآباد کے ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی، جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ گئے اور وہاں سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں تقریباً ایک دہائی تک وکالت کی اور آئینی و قانونی معاملات میں عملی تجربہ حاصل کیا۔ بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے فعال سیاست کا آغاز کیا۔

افتخار گیلانی پہلی مرتبہ 2011 میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعد ازاں 2016 میں بھی انہوں نے کامیابی حاصل کی اور اسمبلی میں پہنچے۔

راجہ فاروق حیدر کی حکومت میں انہیں وزیر تعلیم کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔ وزارتِ تعلیم کے دوران محکمہ تعلیم میں اصلاحات، میرٹ پر بھرتیوں اور گڈ گورننس سے متعلق اقدامات ان کے سیاسی و انتظامی تجربے کا حصہ رہے۔

افتخار گیلانی کی بطور وزیراعظم نامزدگی مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے اندر مکمل طور پر اختلاف سے پاک نہیں رہی۔ انتخاب سے ایک روز قبل پارٹی کے اندر بعض اہم رہنماؤں کی جانب سے تحفظات سامنے آئے تھے۔

آزاد کشمیر مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کی جانب سے افتخار گیلانی کی حمایت نہ کرنے سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں۔

تاہم پارٹی کی مرکزی قیادت نے افتخار گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے امیدوار برقرار رکھا اور بالآخر انہوں نے اسمبلی میں مطلوبہ حمایت حاصل کرتے ہوئے قائد ایوان کا انتخاب جیت لیا۔

وزارتِ عظمیٰ کا یہ انتخاب اس لحاظ سے بھی دلچسپ رہا کہ افتخار گیلانی اور سردار مختار احمد خان عباسی چند ہفتے قبل ہونے والے عام انتخابات میں بھی ایک دوسرے کے مدمقابل تھے۔

اس وقت مختار احمد عباسی نے عام نشست پر افتخار گیلانی کو شکست دی تھی، لیکن وزیراعظم کے انتخاب میں صورتحال تبدیل ہوگئی اور افتخار گیلانی نے 30 ووٹ حاصل کرکے اسی سیاسی حریف کو 14 ووٹوں پر محدود کردیا۔

وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد بیرسٹر افتخار گیلانی کو متعدد اہم سیاسی، انتظامی اور عوامی مسائل کا سامنا ہوگا۔

آزاد کشمیر میں گڈ گورننس، مالی و انتظامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار، تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری، روزگار کے مواقع اور سیاسی استحکام نئی حکومت کے لیے اہم ترجیحات میں شامل ہوسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ حکمران جماعت کے اندر موجود اختلافات کو ختم کرکے مختلف سیاسی دھڑوں کو ساتھ لے کر چلنا بھی نومنتخب وزیراعظم کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔

وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اب بیرسٹر افتخار گیلانی کی حلف برداری اور نئی ریاستی حکومت کی تشکیل کا مرحلہ شروع ہوگا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق نومنتخب وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب ایوانِ صدر مظفرآباد میں منعقد کی جائے گی۔

حکومت سازی کے اگلے مرحلے میں کابینہ کی تشکیل، وزراء کے انتخاب اور مختلف محکموں کی ذمہ داریوں کی تقسیم اہم معاملات ہوں گے۔

بیرسٹر افتخار گیلانی کی کامیابی نے آزاد کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا ہے۔ تاہم ان کی حکومت کی کامیابی کا اصل انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ پارٹی کے اندرونی اختلافات، اپوزیشن کے ساتھ تعلقات اور عوامی مسائل سے کس انداز میں نمٹتے ہیں۔

عام انتخابات میں شکست سے وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنے والا افتخار گیلانی کا مختصر مگر غیر معمولی سیاسی سفر اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج انتخاب جیتنا نہیں بلکہ ایک مستحکم، مؤثر اور عوامی توقعات پر پورا اترنے والی حکومت چلانا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے