جسے عوام نے مسترد کیا ن لیگ نے اسے ریاستِ کشمیر کا وزیرِ اعظم بنا دیا

Iftikhar Gilani Prime Minister of Azad Jammu and Kashmir in traditional Shalwar Kameez and waistcoat with a mountain landscape background
بیرسٹر افتخار گیلانی – وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر

مظفرآباد: جمہوریت کا بنیادی جوہر عوام کی رائے اور ان کے ووٹ کی بالادستی پر منحصر ہوتا ہے، لیکن آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی منظرنامے میں ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت سامنے آئی ہے کہ عوامی فیصلے کس طرح پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ حالیہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں بیرسٹر افتخار گیلانی اپنے حلقے سے الیکشن ہار گئے تھے اور عوام نے انہیں مسترد کر دیا تھا، اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے انہیں وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز کر دیا۔

آزاد کشمیر کی حالیہ انتخابی دوڑ میں بیرسٹر افتخار گیلانی کو اپنے حلقے میں مختار احمد عباسی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جمہوری اصولوں کے تحت عوام کی جانب سے مسترد کیے جانے والے رہنما کے لیے اقتدار کے راستے بند ہو جانے چاہئیں، مگر روایتی سیاسی جوڑ توڑ کے تحت انہیں پہلے "ٹیکنوکریٹ نشست” کے ذریعے ایوان میں لایا گیا اور پھر مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ریاست کا وزیراعظم نامزد کر دیا گیا۔

  • عوامی مینڈیٹ کی نفی: جو سیاسی رہنما اپنے حلقے کے عام انتخابات میں عام ووٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہو، وہ پوری ریاست کے عوام کی نمائندگی کا اخلاقی جواز نہیں رکھتا۔

  • ٹیکنوکریٹ نشستوں کا استعمال: آئین میں ٹیکنوکریٹ کی نشستیں ماہرین اور پڑھے لکھے پیشہ ور افراد کے لیے رکھی گئی تھیں تاکہ قانون سازی میں بہتری لائی جا سکے، نہ کہ انتخابی شکست خوردہ سیاستدانوں کو مسلط کرنے کے لیے۔

  • جمہوری اقدار کو دھچکا: اس قسم کے فیصلوں سے عام آدمی کا پارلیمانی نظام اور جمہوریت پر سے اعتماد اٹھتا ہے اور یہ تاثر گہرا ہوتا ہے کہ اقتدار کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے نہیں بلکہ بند کمروں کی مصلحتوں سے ہوتا ہے۔

جب تک سیاست میں عوامی فیصلے اور ووٹ کی حرمت کو مقدم نہیں رکھا جائے گا، تب تک حقیقی جمہوریت اور گڈ گورننس کے قیام کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ افتخار گیلانی کا یہ تقرر اس فرسودہ سیاسی نظام کی عکاسی کرتا ہے جہاں عوام کا فیصلہ ثانوی اور سیاسی جماعتوں کی صوابدید حتمی بن جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے