نومولود کے لیے ماں کا پہلا دودھ قدرتی ویکسین ہے: اہم تربیتی ورکشاپ

کراچی (ویب ڈیسک): سندھ کے ٹرشری کیئر اسپتالوں میں زچہ و بچہ کی نگہداشت کو مزید بہتر بنانے اور نومولود بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے کراچی میں ایک اہم تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں اندرونِ سندھ سے تعلق رکھنے والی نرسز اور مڈوائفز کو پیدائش کے فوراً بعد بچوں کو ماں کا دودھ پلانے (بریسٹ فیڈنگ) کی سائنسی و طبی اہمیت سے متعلق تفصیلی تربیت فراہم کی گئی۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ماہرینِ صحت نے واضح کیا کہ ڈیلیوری خواہ نارمل ہو یا سیزیرین، دونوں صورتوں میں پیدائش کے چند منٹوں کے اندر ہی بچے کو ماں کا دودھ شروع کرانا بے حد ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق پیدائش کے ابتدائی لمحات میں نکلنے والا پہلا گاڑھا دودھ، جسے کولوسٹرم (Colostrum) کہا جاتا ہے، بچے کے لیے قدرتی حفاظتی ڈھال کا کام کرتا ہے۔ اس دودھ میں موجود امیونوگلوبولنز (Immunoglobulins) نومولود کو جان لیوا انفیکشنز سے محفوظ رکھتے ہیں اور اس کی قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتے ہیں۔
طبی ماہرین نے معاشرے میں قائم قدیم روایات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پیدائش کے فوراً بعد بچوں کو گھٹی، شہد یا کھیوا جیسی چیزیں دینے سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی غیر ضروری اشیا بچے کے معدے اور صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، لہٰذا ابتدائی ایام میں بچے کو صرف اور صرف ماں کا دودھ ہی ملنا چاہیے۔
تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے شریک نرسز اور مڈوائفز میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔ تقریب میں پی پی اے کے سربراہ ڈاکٹر خالد، پروفیسر ڈاکٹر جمال رضا اور ڈاکٹر نگہت شاہ سمیت شعبہ صحت کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
صوبائی وزیرِ صحت اور دیگر ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ طبی عملہ اسپتالوں میں آنے والی ماؤں کی صحیح رہنمائی کرے تاکہ روایتی تصورات کا خاتمہ ہو سکے اور ہر نومولود کو زندگی کا بہترین اور صحت مند آغاز میسر آ سکے۔
