لاہور: انسدادِ دہشت گردی کے شعبے کا قیام، صوبائی حکومت کا سیکیورٹی کے لیے اہم اقدام

Punjab Chief Minister Maryam Nawaz speaking at the inauguration of Artificial Intelligence Hub in Lahore
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف لاہور میں پہلے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہب کا افتتاح کرتے ہوئے.

پنجاب میں امن و امان کے قیام کے لیے ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے آئی جی آفس لاہور میں انسدادِ دہشت گردی کے ایک نئے یونٹ کا افتتاح کیا گیا، جس کی تقریب میں وزیرِاعلیٰ پنجاب کی نمائندگی وزیرِاعظم کی صاحبزادی نے کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملک اور خصوصاً پنجاب میں دیرپا امن اور استحکام کے بغیر کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں ہو سکتا، اور موجودہ پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال نے تمام اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا ہے۔

تقریب میں آئی جی پنجاب سمیت سینئر پولیس افسران، فرانزک اور انٹیلیجنس ماہرین کے علاوہ صوبائی حکومت کے نمائندے موجود تھے۔ خطاب میں کہا گیا کہ نئے قائم ہونے والا شعبہ جدید سائنسی طریقوں، ڈیجیٹل ٹریکنگ اور بہتر رابطہ کاری کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنائے گا۔ اس موقع پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ پنجاب پہلے ہی ملک کے سب سے زیادہ محفوظ صوبوں میں شمار ہوتا ہے، تاہم پڑوسی علاقوں سے دہشت گردی کے بعض خطرات بدستور موجود ہیں۔

بات چیت کے دوران انسدادِ دہشت گردی کے قانون پر عملدرآمد، متعلقہ اداروں کے مابین ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ نشاندہی کی گئی کہ ماضی میں کچھ کارروائیوں کے دوران رابطہ کاری کا فقدان رہا، جس کے تدارک کے لیے اب سیف سٹی، فرانزک لیب اور نئے قائم ہونے والے شعبے کے مابین بہتر تعاون کو یقینی بنایا جائے گا۔

تقریب میں یہ بھی بتایا گیا کہ سخت قانون سازی اور پولیسنگ میں بہتری کے باعث صوبے میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، اور صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ کچھ اقسام کے جرائم میں تقریباً ستر فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ خواتین کی حفاظت، ڈیجیٹل نگرانی اور جدید تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینے کا عندیہ دیا گیا۔

اختتام پر کہا گیا کہ عوام کا تحفظ اور جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، اور کرپشن کے خلاف بھی سخت اقدامات جاری رہیں گے تاکہ وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ صوبائی حکومت کی نمائندگی کرنے والی رہنما اس کے بعد ایک نجی دورے پر لندن روانہ ہو گئیں، جہاں ان کا تین روزہ قیام متوقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے