مشرقِ وسطیٰ کا دہکتا ہوا تندور اور ایران کی تزویراتی خام خیالی

تحریر: محمد عمران حسنی
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے جہاں چنگاری گرنے کا نہیں، بلکہ دھماکے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی خطے میں جنگ کے بادل منڈلائے، پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار، مخلص اور سنجیدہ پڑوسی کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کی صفِ اول کی قیادت نے بارہا تہران کے چکر لگائے، سفارتی رابطے بحال کیے اور ایرانی قیادت کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ وقت محاذ آرائی کا نہیں بلکہ تدبر کا ہے کیونکہ امریکہ اور مغربی دنیا بھی معاملات کو کسی نہ کسی سطح پر حل کرنے کی خواہشمند دکھائی دیتی ہے۔ لیکن افسوس! تہران کے اقتدار کے ایوانوں میں پاکستان کی اس مخلصانہ دوڑ دھوپ کو شاید "احسانِ عظیم” یا ایک مخلصانہ ثالثی کے بجائے یہ سمجھ لیا گیا کہ پاکستان اس بحران میں اپنے لیے "ہیرو” کا کردار تلاش کر رہا ہے۔
اسی تزویراتی خام خیالی (Strategic Miscalculation) کا نتیجہ ہے کہ ایران آج دنیا کو گھوم پھر کر پھر اسی ہولناک دوراہے پر لے آیا ہے، جہاں فائدہ کسی کا بھی نہیں اور نقصان سب کا ہے۔ ایران نے خطے میں وہ سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے جو دراصل اس کا سب سے بڑا حریف—اسرائیل—چاہتا تھا۔
بین الاقوامی تعلقات اور خارجہ پالیسی کے بے رحم اصولوں میں اگرچہ "احسان” جیسے روایتی اور اخلاقی الفاظ کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے، لیکن اگر تاریخ کے جھروکوں میں جھانکا جائے تو پاکستان نے ہمیشہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو سفارتی جکڑ بندیوں سے ماورا ہو کر نبھایا۔ عالمی پابندیوں، مغربی دباؤ اور خلیجی ممالک کے تحفظات کے باوجود پاکستان نے کبھی ایران کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کیے۔ جب بھی تہران پر مشکل وقت آیا، اسلام آباد نے ہمیشہ ایک مخلص سہولت کار کا کردار پیش کیا۔ لیکن اس مخلصانہ تگ و دو کے جواب میں ایرانی قیادت کا رویہ ہمیشہ سرد مہر رہا۔ پاکستانی قیادت کی آمد پر تہران کی روایتی سفارتی سردمہری دراصل اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ خطے میں پاکستان کے قد کاٹھ اور مخلصانہ کوششوں کو تسلیم کرنے سے کتراتی رہی ہے۔ آج اگر کوئی یہ کہے کہ ایران نے ان تمام مخلصانہ کوششوں کا جواب احسان فراموشی سے دیا ہے، تو شاید یہ بات حقیقت سے زیادہ دور نہ ہوگی۔
یہاں المیہ صرف یہ نہیں ہے کہ ایران اپنے ضدی فیصلوں اور مہم جوئی سے اپنا نقصان کر رہا ہے، بلکہ اصل تشویشناک بات یہ ہے کہ وہ اپنی ان پالیسیوں کی وجہ سے پورے خطے کو ایک ایسی جنگ کی دلدل میں دھکیل رہا ہے جس کے اثرات صدیوں تک ختم نہیں ہوں گے۔ پاکستان سمیت پورا خطہ پہلے ہی شدید معاشی اور اندرونی چیلنجز سے نبردآزما ہے، ایسے میں پڑوس میں لگی آگ کے شعلے کسی بھی وقت سرحدوں کو عبور کر سکتے ہیں۔
اس پوری بساط پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جنگی جنون اور کشیدگی کا اصل فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ جواب بہت واضح اور تلخ ہے: صرف اور صرف اسرائیل کو۔
اسرائیل طویل عرصے سے یہی چاہتا تھا کہ دنیا کی توجہ غزہ کے مظالم، فلسطینیوں کی نسل کشی اور اس کے اپنے جنگی جرائم سے ہٹ جائے۔ ایرانی قیادت کی غیر سنجیدہ اور جذباتی پالیسیوں نے اسرائیل کو وہ سنہری موقع فراہم کر دیا ہے جہاں وہ خود کو مظلوم ثابت کر کے مغربی دنیا کی ہمدردیاں اور فوجی امداد دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔ مسلم امہ کی توجہ غزہ کے اصل انسانی المیے سے ہٹ کر اب علاقائی بلاک اور بقا کی جنگ پر منتقل ہو چکی ہے۔
ایران کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ انقلابی نعرے اور جذباتی فیصلے کبھی بھی طویل مدتی سفارتی کامیابیوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ پڑوسی ممالک کی مخلصانہ آراء کو سردمہری سے ٹھکرانے کا انجام ہمیشہ تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔ تہران کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور خطے کا امن ہمیشہ کے لیے خاکستر ہو جائے، کیونکہ اس جنگ کی آگ لگی تو جلنے والے ایندھن میں صرف ایران نہیں، بلکہ پورا خطہ شامل ہوگا۔