نئی دہلی میں افغان وزیر مولوی عطا اللہ عمری کا "DNA” اور "سومنات” پر متنازع بیان: مصلحت پسندی یا تاریخ مسخ کرنے کی کوشش؟

خصوصی تجزیاتی رپورٹ: ویب ڈیسک
افغان عبوری حکومت کے وزیرِ زراعت مولوی عطا اللہ عمری کے حالیہ دورۂ بھارت اور نئی دہلی میں دیے گئے بیانات نے خطے کے سیاسی اور تاریخی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ افغان وزیر کی جانب سے سلطان محمود غزنوی کے سومنات سے متعلق تاریخی اقدام کو "غلطی” قرار دینے اور بھارت کے ساتھ "ایک ہی ڈی این اے (DNA)” ہونے کے دعوے پر سوشل میڈیا اور علمی حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بیانات تاریخی حقائق کو پسِ پشت ڈالنے، نئی دہلی کو خوش کرنے کی سفارتی مصلحت پسندی اور خطے کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال میں پاکستان کو زچ کرنے کی ایک منظم کوشش دکھائی دیتے ہیں۔
تاریخ کو عارضی مصلحتوں کی قربان گاہ پر چڑھانے کا رجحان
علمی اور دفاعی حلقوں میں اس بات پر گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ کابل حکومت کے وزراء عارضی سفارتی فوائد کے لیے اپنے ہی خطے کے مسلم ہیروز کے کردار کو متنازع بنا رہے ہیں۔
غزنوی کا تاریخی تناظر: تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ سلطان محمود غزنوی نے گیارہویں صدی کے جغرافیائی اور عسکری حالات کے تحت فیصلے کیے۔ سومنات محض ایک مندر نہیں بلکہ اس دور کا مضبوط سیاسی و معاشی مرکز تھا جہاں سے غزنوی سلطنت کے خلاف سازشیں پروان چڑھتی تھیں۔ اس دور کے فیصلوں کو آج کے دور کی عینک سے دیکھنا سراسر علمی بددیانتی ہے۔
نظریاتی تضاد: غزنوی کا مزار خود افغانستان کے شہر غزنی میں واقع ہے اور انہیں وہاں ایک قومی فاتح مانا جاتا ہے۔ ایسے میں افغان کابینہ کے اپنے ہی ایک وزیر کا ان کے فیصلوں کو "غلطی” کہنا ان کے اپنے ملکی نظریات اور حامیوں کے لیے حیران کن ہے۔
سفارتی تنہائی اور معاشی مجبوریاں
مبصرین کے مطابق، افغان وزیر کا یہ بیان کسی علمی تحقیق کا نتیجہ نہیں بلکہ مصلحت پسندی کی سیاست (Realpolitik) کا شاخسانہ ہے۔
بھارت کی گود میں بیٹھنے کی کوشش: پاکستان کے ساتھ سرحدی اور تجارتی کشیدگی کے اس دور میں، کابل انتظامیہ بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھا رہی ہے۔ معاشی امداد اور سیاسی تسلیمیت (Recognition) حاصل کرنے کے لیے کابل کے وزراء نئی دہلی کو خوش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔
"ایک ڈی این اے” کا مضحکہ خیز دعویٰ: افغان وزیر کا یہ کہنا کہ "بھارت آ کر لگتا ہے ہم اپنوں میں آ گئے ہیں، ہمارا اور ان کا ڈی این اے ایک ہے”، ان کے اپنے ماضی کے بیانیے کی نفی کرتا ہے۔ ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا بیس سال تک جس مغربی اور غیر ملکی کلچر و نظریے کے خلاف جنگ لڑی گئی، اب سفارتی فائدے کے لیے اسی نظریے کے حلیف کے ساتھ جذباتی اور نسلی رشتے تلاش کیے جا رہے ہیں؟
۳۔ نئی دہلی کا دوغلا پن: تاریخ پر مگرمچھ کے آنسو، حال پر خاموشی
اس پورے معاملے کا سب سے بڑا تضاد بھارتی پالیسیوں اور اس پر افغان وزیر کی پراسرار خاموشی میں چھپا ہے۔
مساجد کی مسماری پر خاموشی: جہاں ایک طرف افغان وزیر ہزار سال پرانے مندر کے گرائے جانے پر پچھتاوے کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں وہ دورِ حاضر کے بھارت میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر، تاریخی مساجد پر ہندو انتہا پسندوں کے مسلسل دعووں اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم پر مکمل مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
دہرا معیار: نئی دہلی جو برسوں سے طالبان حکومت پر تنقید کرتا رہا ہے، اب اپنے علاقائی مفادات اور پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کے لیے ان کے وزراء کے لیے سرخ قالین بچھا رہا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں عارضی معاشی یا سیاسی فوائد کے لیے اپنے اسلاف کی تاریخ کو مسخ کرتی ہیں، وہ اپنا وقار کھو بیٹھتی ہیں۔ کابل انتظامیہ کو سمجھنا ہوگا کہ نئی دہلی کی سستی خوشامد اور پاکستان کے ساتھ دیرینہ برادرانہ، تزویراتی اور جغرافیائی تعلقات کو نظر انداز کر کے وہ خطے میں پائیدار استحکام اور ترقی حاصل نہیں کر سکتیں۔