16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی

برطانوی حکومت نے بچوں کی ذہنی صحت اور ڈیجیٹل تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ ملک میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال ممنوع ہوگا۔
کون سے پلیٹ فارمز پابندی کی زد میں ہیں؟
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق، نئے قوانین کے تحت درج ذیل پلیٹ فارمز تک بچوں کی رسائی کو محدود یا بلاک کر دیا جائے گا:
سوشل میڈیا اور ویڈیو ایپس: ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک، اور ایکس (ٹویٹر)۔
ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم: یوٹیوب۔
میسجنگ اور شیئرنگ ایپ: اسنیپ چیٹ۔
اضافی سختیاں
پلیٹ فارمز پر پابندی کے ساتھ ساتھ چند مخصوص سرگرمیوں پر بھی مکمل قدغن لگائی گئی ہے:
لائیو اسٹریمنگ: بچے کسی بھی قسم کی لائیو اسٹریمنگ نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی اس کا حصہ بنیں گے۔
اجنبیوں سے رابطہ: آن لائن گیمز یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے اجنبی افراد کے ساتھ رابطوں پر سخت پابندیاں عائد ہوں گی۔
پابندی سے مستثنیٰ ایپس
میکانزم کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ بچوں کا تعلیمی اور خاندانی رابطہ متاثر نہ ہو۔ اس لیے درج ذیل ایپس کو اس پابندی سے الگ رکھا گیا ہے:
واٹس ایپ (WhatsApp)
سگنل (Signal)
اہم نکتہ: یہ قانون سازی دنیا بھر میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگی، کیونکہ اب انہیں صارفین کی عمر کی تصدیق (Age Verification) کے لیے انتہائی سخت اور فول پروف سسٹم بنانا ہوں گے۔
