ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑھتے وزن نے طبی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا: امریکی صدر کی صحت سے متعلق نئی تفصیلات جاری

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے وزن اور صحت کی ظاہری علامتوں نے ایک بار پھر طبی ماہرین اور سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق انتخابی مہم کے خاتمے کے بعد سے اب تک ان کے وزن میں تقریباً 23 پاؤنڈ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے ڈاکٹروں نے ان کی عمر کے پیشِ نظر تشویشناک قرار دیا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں سامنے آنے والی تصاویر اور سرکاری تقاریب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اپنی گزشتہ انتخابی مہم کے مقابلے میں نمایاں طور پر مختلف اور بھاری دکھائی دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نہ صرف تصاویر بلکہ خود صدر اور ان کے قریب ترین معاونین کے بیانات سے بھی وزن میں اس نمایاں اضافے کی تصدیق ہوتی ہے۔ انتخابی مہم کے متحرک شیڈول کے بعد سے روزمرہ روٹین میں تبدیلی کو اس کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر کے افراد میں اچانک یا مسلسل وزن کا بڑھنا متعدد مہلک بیماریوں کے خطرے کو ڈرامائی حد تک بڑھا دیتا ہے:
دل کے امراض: اضافی وزن سے دل پر خون پمپ کرنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
بلڈ پریشر اور ذیابیطس: وزن میں اضافہ انسولین کی کارکردگی اور بلڈ پریشر کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔
دیگر پیچیدگیاں: جوڑوں کے درد اور سانس کی نالی کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
صرف وزن ہی نہیں بلکہ حال ہی میں ان کی دیگر جسمانی علامتوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تقاریب کے دوران ان کے ہاتھوں پر نیل کے نشانات، ٹخنوں میں سوجن اور بظاہر غنودگی کے آثار نمایاں دیکھے گئے ہیں۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس اور متعلقہ طبی ٹیم کی جانب سے ان کی مجموعی صحت کو تسلی بخش قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم ان نئی علامتوں اور 23 پاؤنڈ اضافے نے طبی برادری میں بحث چھیڑ دی ہے۔
