پاکستان، ترکیہ، سعودیہ معاہدہ: خواب ابھی ادھورا

تحریر:محمد عمران حسنی
دنیا کی سیاست میں بعض معاہدے صرف کاغذ پر دستخط نہیں ہوتے بلکہ وہ آنے والے برسوں کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی اور سیکیورٹی تعاون بھی اسی نوعیت کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تینوں ممالک اگر اپنی دفاعی، معاشی، سفارتی اور تزویراتی صلاحیتوں کو ایک مربوط فریم ورک میں ڈھالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات صرف تین دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کے طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مگر اس خوش آئند پیش رفت کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی موجود ہے:
کیا صرف پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا تعاون ایک مضبوط علاقائی طاقت کا خواب پورا کر سکتا ہے؟
شاید نہیں۔
کیونکہ اس تصویر میں ایک اہم ملک ابھی بھی باہر کھڑا ہے، اور وہ ہے ایران۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو ایک منزل کے بجائے ایک آغاز سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اگر اس آغاز کو ایک وسیع تر علاقائی تعاون میں تبدیل کرنا ہے تو ایران سمیت خطے کے دیگر اہم ممالک کو بھی کسی نہ کسی شکل میں اس عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔
تین ملک، تین طاقتیں، ایک نیا امکان
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب اپنی نوعیت کے اعتبار سے تین مختلف مگر ایک دوسرے کے لیے تکمیلی طاقتیں ہیں۔
پاکستان کے پاس ایک تجربہ کار فوج، ایٹمی صلاحیت، جغرافیائی اہمیت اور خطے کے پیچیدہ سیکیورٹی مسائل سے نمٹنے کا طویل تجربہ ہے۔
ترکیہ نے گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صنعت کو جس رفتار سے ترقی دی ہے، وہ اسے مسلم دنیا میں ایک نمایاں دفاعی ٹیکنالوجی مرکز بنا رہی ہے۔ ڈرونز، دفاعی پیداوار، بحری ٹیکنالوجی اور مقامی اسلحہ سازی میں ترکیہ کی پیش رفت نے اسے محض ایک صارف نہیں بلکہ دفاعی مصنوعات کے ایک اہم پروڈیوسر کے طور پر سامنے لایا ہے۔
سعودی عرب کے پاس اس کے مقابلے میں معاشی قوت، توانائی کے وسائل، سرمایہ کاری کی صلاحیت اور عالمی سفارت کاری میں اہم مقام ہے۔
اگر پاکستان کی دفاعی صلاحیت، ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کے مالی و معاشی وسائل ایک مشترکہ حکمت عملی کا حصہ بن جائیں تو ایک ایسا ماڈل تشکیل پا سکتا ہے جس کی طاقت محض فوجی نہیں بلکہ دفاعی، معاشی اور سفارتی ہو۔
لیکن یہاں ایک بنیادی احتیاط ضروری ہے۔
کسی بھی اتحاد کی طاقت صرف اس کے ارکان کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کے درمیان اعتماد، مشترکہ مفادات اور طویل المدتی پالیسی سے پیدا ہوتی ہے۔
اصل سوال ایران کا ہے
ایران کو اس پورے منظرنامے سے الگ رکھ کر مشرقِ وسطیٰ کے کسی بڑے سیکیورٹی فریم ورک کا تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔
ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے۔ اس کی سرحد پاکستان کے بلوچستان سے ملتی ہے اور افغانستان کے بعد پاکستان کی مغربی سمت میں ایران ایک انتہائی اہم جغرافیائی حقیقت ہے۔
دوسری طرف ایران خلیج فارس کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔
ایران کے پاس میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون صلاحیت، توانائی کے وسیع وسائل اور ایک ایسا جغرافیہ ہے جو اسے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں نظر انداز نہ کیے جانے والا ملک بناتا ہے۔
اس لیے اگر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب ایک نیا سیکیورٹی فریم ورک تشکیل دیتے ہیں لیکن ایران اس سے باہر رہتا ہے تو یہ تعاون ایک خاص حد تک ضرور مؤثر ہوگا، مگر اسے مکمل علاقائی سیکیورٹی نظام قرار دینا مشکل ہوگا۔
کیا ایران کو لازماً دفاعی اتحاد میں شامل ہونا چاہیے؟
یہاں جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ سوچ کی ضرورت ہے۔
ایران کو شامل کرنے کا مطلب یہ ضروری نہیں کہ چاروں ممالک ایک مشترکہ فوجی کمان قائم کر لیں یا ہر عالمی مسئلے پر ایک ہی مؤقف اختیار کریں۔
علاقائی تعاون کئی سطحوں پر قائم ہو سکتا ہے۔
مثلاً:
- انسدادِ دہشت گردی میں تعاون
- سرحدی سیکیورٹی
- انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ
- سمندری سلامتی
- منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات
- توانائی کے منصوبے
- تجارتی راہداریوں کی ترقی
- سائبر سیکیورٹی
- قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ نظام
- دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون
یہ نسبتاً کم حساس شعبے ہیں جہاں مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے ممالک بھی مشترکہ مفاد تلاش کر سکتے ہیں۔
اصل کامیابی یہی ہوگی کہ اختلافات کو ختم کیے بغیر اختلافات کے ساتھ تعاون کرنا سیکھا جائے۔
سعودی عرب اور ایران: دشمنی سے مقابلہ، مقابلے سے تعاون تک
ماضی میں سعودی عرب اور ایران خطے میں ایک دوسرے کے سب سے بڑے حریفوں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ ان کے درمیان سیاسی، مذہبی، سیکیورٹی اور جغرافیائی اختلافات نے پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر اثر ڈالا۔
لیکن سفارتی تعلقات کی بحالی نے ایک اہم حقیقت واضح کر دی:
بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست اور مستقل دشمن سے زیادہ مستقل مفادات اہم ہوتے ہیں۔
اگر ریاض اور تہران اپنے اختلافات کے باوجود باہمی تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے تعاون کر سکتے ہیں تو مستقبل میں وسیع تر علاقائی تعاون کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔
یہاں پاکستان ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تاریخی اور دفاعی تعلقات ہیں، جبکہ ایران اس کا ہمسایہ ہے۔ اگر اسلام آباد دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔
ترکیہ کا کردار صرف دفاع تک محدود نہیں
ترکیہ اس ممکنہ فریم ورک میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔
وہ ایک طرف یورپ اور نیٹو سے جڑا ہوا ہے، دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور مسلم دنیا کے ساتھ اس کے گہرے تاریخی و سیاسی روابط ہیں۔
اس کی دفاعی صنعت نے اسے مسلم دنیا کے لیے ایک اہم ٹیکنالوجی پارٹنر بنا دیا ہے۔
اگر پاکستان اور ترکیہ دفاعی پیداوار میں مزید تعاون کرتے ہیں، مشترکہ منصوبے شروع ہوتے ہیں اور سعودی سرمایہ کاری اس شعبے میں شامل ہوتی ہے تو یہ تعاون مستقبل میں ایک ایسے دفاعی صنعتی نیٹ ورک کو جنم دے سکتا ہے جس سے خطے کے ممالک اپنی دفاعی ضروریات کے لیے بیرونی انحصار کم کر سکیں۔
یہی وہ پہلو ہے جو اس پورے تصور کو محض سیاسی اتحاد سے کہیں زیادہ اہم بنا دیتا ہے۔
مصر کو نظر انداز کرنا بھی آسان نہیں
اگر مستقبل میں اس تعاون کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو مصر بھی ایک اہم امیدوار ہو سکتا ہے۔
مصر عرب دنیا کی بڑی سیاسی اور عسکری طاقتوں میں شمار ہوتا ہے اور نہر سویز کے باعث اسے عالمی تجارت میں غیر معمولی جغرافیائی اہمیت حاصل ہے۔
پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، ایران اور مصر اگر ایک مکمل سیاسی یا عسکری اتحاد نہ بھی بنائیں، لیکن تجارت، توانائی، سمندری سلامتی، دفاعی صنعت اور علاقائی سفارت کاری میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون شروع کر دیں تو ایک نیا علاقائی توازن پیدا کیا جا سکتا ہے۔
یہی ماڈل زیادہ حقیقت پسندانہ بھی ہے اور زیادہ دیرپا بھی۔
اصل طاقت فوج نہیں، معیشت ہے
مسلم دنیا میں دفاعی تعاون کی بات اکثر فوجی طاقت کے تناظر میں کی جاتی ہے، لیکن موجودہ دنیا میں صرف میزائل، جنگی طیارے اور فوجیں کسی ملک کو عالمی طاقت نہیں بناتیں۔
اصل طاقت معیشت، ٹیکنالوجی، تحقیق، تعلیم، صنعتی پیداوار اور مالیاتی خودمختاری سے پیدا ہوتی ہے۔
اگر پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران جیسے ممالک واقعی ایک مضبوط علاقائی بلاک بنانا چاہتے ہیں تو انہیں مشترکہ دفاعی منصوبوں سے کہیں آگے جانا ہوگا۔
مشترکہ صنعتی زون، توانائی کے منصوبے، ریلوے اور تجارتی راہداریاں، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، زرعی تحقیق، یونیورسٹیوں کے درمیان تعاون اور مقامی کرنسیوں میں تجارت جیسے منصوبے کسی بھی دفاعی معاہدے سے زیادہ دیرپا اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔
جو اتحاد معیشت میں خود کفیل نہ ہو، وہ دفاع میں بھی مکمل خودمختاری حاصل نہیں کر سکتا۔
عالمی طاقتیں خاموش تماشائی نہیں ہوں گی
اگر پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران سمیت خطے کی اہم طاقتیں ایک مضبوط علاقائی تعاون کی طرف بڑھتی ہیں تو عالمی طاقتیں اسے نظر انداز نہیں کریں گی۔
امریکا کے خطے میں طویل المدتی مفادات ہیں۔ چین پہلے ہی خلیج، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اپنی معاشی و سفارتی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ روس بھی مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایسی صورت میں کسی نئے علاقائی بلاک کو عالمی سیاست کے دباؤ، معاشی مفادات اور سفارتی مداخلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لیکن یہاں بھی ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے:
کسی ملک کے خلاف اتحاد اور اپنے مفادات کے لیے اتحاد میں فرق ہوتا ہے۔
اگر یہ تعاون کسی عالمی طاقت کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے علاقائی امن، معاشی ترقی اور مشترکہ سلامتی کے لیے ہو تو اس کی عالمی قبولیت کے امکانات زیادہ ہوں گے۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا موقع
اس پورے منظرنامے میں پاکستان کے پاس ایک منفرد موقع موجود ہے۔
پاکستان نہ تو عرب دنیا کا حصہ ہے اور نہ ہی خلیجی طاقتوں کی طرح معاشی وسائل رکھتا ہے۔ لیکن اس کے پاس ایک ایسی جغرافیائی حیثیت ہے جو اسے جنوبی ایشیا، خلیج، ایران، وسطی ایشیا اور ترکیہ کے درمیان ایک ممکنہ پل بناتی ہے۔
گوادر، سی پیک، ایران کے ساتھ سرحد، افغانستان سے قربت اور ترکیہ و سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات پاکستان کو ایک اہم سفارتی مقام فراہم کرتے ہیں۔
لیکن اس موقع کو استعمال کرنے کے لیے پاکستان کو ایک متوازن خارجہ پالیسی کی ضرورت ہوگی۔
پاکستان کو کسی ایک ملک کے خلاف دوسرے ملک کا اتحادی بننے کے بجائے علاقائی مفادات کا مشترکہ پلیٹ فارم بنانے والا ملک بننا چاہیے۔
اگر اسلام آباد یہ کردار ادا کرنے میں کامیاب ہو گیا تو پاکستان صرف ایک دفاعی شراکت دار نہیں بلکہ ایک اہم سفارتی مرکز بن سکتا ہے۔
خواب ابھی ادھورا کیوں ہے؟
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان تعاون بلاشبہ ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اسے مکمل علاقائی اتحاد سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
اس خواب کی تکمیل کے راستے میں کئی سوالات ابھی جواب طلب ہیں:
کیا تینوں ممالک طویل المدتی مشترکہ حکمت عملی بنا سکتے ہیں؟
کیا ایران کو اس عمل میں کسی قابلِ قبول شکل میں شامل کیا جا سکتا ہے؟
کیا سعودی عرب اور ایران اپنے اختلافات کو علاقائی تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے؟
کیا ترکیہ اپنے مختلف عالمی و علاقائی تعلقات کے باوجود اس تعاون کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھا سکے گا؟
کیا پاکستان اپنی داخلی معاشی مشکلات کے باوجود اس شراکت داری سے حقیقی فائدہ اٹھا سکے گا؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا یہ تعاون صرف دفاعی معاہدوں تک محدود رہے گا یا ایک وسیع تر معاشی اور تکنیکی شراکت داری میں تبدیل ہوگا؟
ان سوالات کے جوابات ہی طے کریں گے کہ یہ پیش رفت تاریخ میں ایک معمولی سفارتی واقعہ بن کر رہ جاتی ہے یا ایک نئے علاقائی نظام کی بنیاد بنتی ہے۔
حاصلِ کلام
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی و سیکیورٹی تعاون ایک امید ضرور ہے، لیکن اسے کامیاب بنانے کے لیے جذبات سے زیادہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
اگر یہ تعاون کسی مخصوص ملک کے خلاف صف بندی بن گیا تو اس کی عمر محدود ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر اسے علاقائی امن، مشترکہ دفاع، معاشی ترقی، توانائی، ٹیکنالوجی اور سفارتی تعاون کے وسیع تر تصور میں تبدیل کیا گیا تو اس کے نتائج کہیں زیادہ دور رس ہو سکتے ہیں۔
اس پورے خواب کی تکمیل میں ایران کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایران کو نظر انداز کر کے خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے پائیدار امن کا تصور مشکل ہے۔ اسی طرح مصر جیسے اہم ممالک کو نظر انداز کر کے مسلم دنیا کے وسیع تر علاقائی تعاون کا تصور بھی محدود رہے گا۔
مسلم دنیا کو آج کسی نئے محاذ کی نہیں، نئے تعاون کے نظام کی ضرورت ہے۔
ایسا نظام جس میں پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت دے، ترکیہ ٹیکنالوجی دے، سعودی عرب سرمایہ فراہم کرے، ایران جغرافیائی اور توانائی کی قوت کے ساتھ شریک ہو، مصر اپنی سیاسی و عسکری اہمیت بروئے کار لائے اور دیگر مسلم ممالک اپنی صلاحیتوں کے مطابق اس عمل کا حصہ بنیں۔
یہ کوئی آسان سفر نہیں۔
ماضی کے اختلافات، مسلکی تقسیم، معاشی مفادات اور عالمی دباؤ اس راستے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
لیکن تاریخ میں بڑی تبدیلیاں ہمیشہ اسی وقت آتی ہیں جب ممالک اپنے اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات کو ترجیح دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کا معاہدہ ایک اچھی شروعات ہو سکتا ہے؛ مگر اگر ایران سمیت خطے کی دوسری اہم طاقتوں کو ایک وسیع تر، متوازن اور غیر جارحانہ علاقائی تعاون میں شامل نہ کیا گیا تو خواب واقعی ابھی ادھورا رہے گا۔
اور شاید اصل سوال یہ نہیں کہ نیا دفاعی بلاک کب بنے گا؟
اصل سوال یہ ہے کہ مسلم دنیا اپنے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی طاقت بننا کب سیکھے گی؟
