لاہور: کاہنہ میں لرزہ خیز واقعہ، مبینہ زہر خورانی سے ماں اور 3 معصوم بچے جاں بحق، بیرون ملک سے آیا والد حراست میں

لاہور (خصوصی رپورٹ، اردو ڈیسک): کاہنہ کے علاقے ہلوکی میں واقع ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی اس وقت سوگ اور خوف میں ڈوب گئی جب ایک ہی گھر سے ماں اور اس کے تین کمسن بچوں کی پراسرار ہلاکت کی لرزہ خیز خبر سامنے آئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ہلاکتیں مبینہ طور پر زہر خورانی کے باعث ہوئی ہیں، جس نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
پولیس اور امدادی ذرائع کے مطابق، افسوسناک واقعے کی اطلاع ملتے ہی فورسز اور ایدھی کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ گھر کے اندر سے تین بچوں کی لاشیں ملیں، جبکہ ان کی والدہ شدید تشویشناک حالت میں تڑپ رہی تھیں۔ انہیں فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دورانِ علاج دم توڑ گئیں۔
ایدھی ترجمان نے جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت درج ذیل ناموں سے کی ہے:
علینہ (عمر 47 سال – والدہ)
ریحان (عمر 16 سال – بیٹا)
عریشہ (عمر 11 سال – بیٹی)
ارسلان (عمر 9 سال – بیٹا)
پولیس کی کارروائی اور والد کا ابتدائی بیان
ایس پی ماڈل ٹاؤن اسد علی کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد اور تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ چاروں افراد کو کوئی زہریلی چیز کھلائی گئی تھی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گھر کے سربراہ اور جاں بحق بچوں کے والد، ناصر ڈوگر کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
حکام کے مطابق ناصر ڈوگر چند روز قبل ہی بیرون ملک سے پاکستان واپس لوٹا تھا۔ اس نے پولیس کو دیے گئے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا ہے کہ:
"میں واقعے کے وقت گھر کے لیے گراسری (سودا سلف) لینے مارکیٹ گیا ہوا تھا۔ جب میں واپس آیا تو بچوں کی لاشیں پڑی تھیں اور اہلیہ کی حالت غیر تھی، جس پر میں نے انہیں اسپتال پہنچایا۔”
تحقیقات کا دائرہ وسیع
پولیس نے کرائم سین (جائے وقوعہ) کو سیل کر کے تمام ضروری سائنسی اور فرانزک شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ زہر خورانی کوئی حادثہ تھی، خودکشی تھی یا اس کے پیچھے کوئی مجرمانہ سازش کارفرما ہے۔ لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد ہی موت کی اصل وجہ اور حقائق واضح ہو سکیں گے۔