مصنوعی ذہانت (AI) اور ورچوئل ماڈلنگ: فیشن انڈسٹری کا نیا دور

فیشن اور ماڈلنگ کی عالمی صنعت اس وقت ایک بنیادی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ روایتی ریمپ واک اور سٹوڈیو فوٹو شوٹس کے مقابلے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور ورچوئل ماڈلز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے اس امتزاج نے نہ صرف ملبوسات کی نمائش کے انداز کو بدلا ہے بلکہ فیشن کی معیشت اور مارکیٹنگ کی حکمتِ عملیوں کو بھی نیا رخ دے دیا ہے۔
ورچوئل ماڈلز دراصل کمپیوٹر گرافکس (CGI)، تھری ڈی (3D) ڈیزائننگ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ڈیجیٹل کردار ہوتے ہیں۔ یہ ماڈلز حقیقت سے اس قدر قریب ہوتے ہیں کہ پہلی نظر میں ان میں اور انسان میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔ انہیں برانڈز کی ضرورت کے مطابق کسی بھی عمر، رنگ، قد اور لباس کے ساتھ ڈیجیٹل سکرین پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
نمایاں مالی بچت: روایتی فیشن مہم کے لیے بین الاقوامی سفر، سٹوڈیو کے کرائے، فوٹوگرافرز، میک اپ آرٹسٹس اور ماڈلز کے معاوضے کی مد میں بھاری رقم درکار ہوتی ہے۔ AI ماڈلز کے ذریعے یہ تمام کام ڈیجیٹل سٹوڈیو میں چند گھنٹوں کے اندر کم سے کم لاگت میں مکمل ہو جاتے ہیں۔
وقت اور پیداواری صلاحیت: نیو کلیکشن کی عکاسی اور کیٹلاگ کی تیاری کے لیے مہینوں کا انتظار ختم ہو چکا ہے۔ برانڈز ایک دن میں سو سے زائد مختلف لکس تیار کر سکتے ہیں۔
عالمگیر تنوع اور شمولیت (Diversity & Inclusion): عالمی برانڈز مختلف ممالک اور ثقافتوں کے لیے مخصوص نسل اور خصوصیات رکھنے والے AI ماڈلز تخلیق کر کے مقامی مارکیٹ کے مطابق اشتہاری مہمات چلا سکتے ہیں۔
پائیداری (Sustainability): روایتی فوٹو شوٹس کے دوران ایندھن کا استعمال، فضائی سفر اور کپڑوں کے نمونوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ ورچوئل شوٹس کے ذریعے کاربن فٹ پرنٹ میں نمایاں کمی آتی ہے۔
| ورچوئل ماڈل / پلیٹ فارم | ملک / بانی | کیریئر اور شراکت داری |
| لیل میکیلا (Lil Miquela) | امریکہ (Brud) | 19 سالہ ڈیجیٹل انفلوئنسر؛ پراڈا، کیلون کلائن اور سیمسنگ کے ساتھ کام کیا |
| شُوڈو گرام (Shudu Gram) | برطانیہ (Cameron-James) | دنیا کی پہلی ورچوئل سپر ماڈل؛ ڈائر (Dior) اور ایفینٹی فیشن کی مہمات کا حصہ |
| اماہ (Imma) | جاپان (AWW Inc) | پنک بالوں والی جاپانی ورچوئل انفلوئنسر؛ آئیکیا (IKEA) اور پورش کے ساتھ شراکت |
علاوہ ازیں لوئی ویٹون، زارا، ایچ اینڈ ایم اور نائی کی جیسے بین الاقوامی اداروں نے اپنے ڈیجیٹل سٹورز اور ای کامرس پلیٹ فارمز پر پروڈکٹ ڈسپلے کے لیے AI ہسٹس اور ماڈلز کا باقاعدہ استعمال شروع کر دیا ہے۔
ورچوئل ٹرائی آن (Virtual Try-On): خریدار اپنے جسمانی تناسب کا ڈیٹا درج کر کے یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کوئی لباس ان کے جسم پر کس طرح فٹ آئے گا۔
شخصی تجربہ: الگوریتھم ہر صارف کی پسند کے مطابق AI ماڈل کی رنگت یا ساخت بدل کر ڈسپلے دکھا سکتا ہے، جس سے آن لائن خریدی گئی اشیاء کے واپسی (Return Rate) کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
روزگار کے خطرات: ماڈلنگ، سٹوڈیو فوٹوگرافی، میک اپ اور اسٹائلنگ سے وابستہ افراد کی نوکریوں اور معاوضوں پر اثر پڑ رہا ہے۔
غیر حقیقی خوبصورتی کے معیارات: AI کے ذریعے بنائے گئے بالکل بے عیب (Perfect) باڈی فیچرز انسانوں میں خاص طور پر نوجوانوں میں احساسِ کمتری کا باعث بن سکتے ہیں۔
حقوقِ ملکیت اور رازداری: حقیقی انسانوں کے چہروں اور خصوصیات کو بغیر اجازت AI ماڈلز کی ٹریننگ کے لیے استعمال کرنے پر قانون سازی اور اخلاقی ضوابط کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں روایتی اور ورچوئل ماڈلنگ الگ الگ کے بجائے ایک مخلوط (Hybrid) شکل اختیار کر لیں گے، جہاں بڑے لائیو شوٹس کے لیے انسان جبکہ ای کامرس اور ڈیجیٹل اشتہارات کے لیے AI ماڈلز کا استعمال غالب رہے گا۔
