فیفا صدر کا دھماکہ خیز اعلان: 2030 ورلڈ کپ میں 64 ٹیموں کی شمولیت پر غور

لاہور (اردو ڈیسک): عالمی فٹ بال کے شائقین کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ فیفا کے صدر Gianni Infantino نے اشارہ دیا ہے کہ 2030 فیفا ورلڈ کپ میں 64 ٹیموں کی شمولیت کی تجویز پر 2026 ورلڈ کپ کے اختتام کے بعد متعلقہ فیفا کمیٹیوں میں باقاعدہ غور کیا جائے گا۔
سوئس میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انفینٹینو نے کہا کہ فٹ بال کا معیار دنیا بھر میں تیزی سے بہتر ہو رہا ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ ممالک کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق چھوٹے ممالک کو ورلڈ کپ میں جگہ ملنے سے ان کے ہاں فٹ بال کی ترقی کو مزید فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہر ملک کو یہ خواب دیکھنے کا حق ہونا چاہیے کہ وہ ایک دن فٹ بال کے سب سے بڑے عالمی مقابلے میں شرکت کرے۔ ان کے بقول ورلڈ کپ کو صرف یورپ اور جنوبی امریکہ تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے حقیقی معنوں میں ایک عالمی ایونٹ بنانا ضروری ہے۔
ایشیا اور افریقہ کو بڑا فائدہ
اگر 64 ٹیموں کا فارمیٹ منظور ہو جاتا ہے تو ماہرین کے مطابق اس کا سب سے زیادہ فائدہ ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (AFC) اور افریقی فٹ بال کنفیڈریشن (CAF) کے ممالک کو ہوگا، کیونکہ ان خطوں کے لیے ورلڈ کپ میں نشستوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔
2030 ورلڈ کپ کیوں ہوگا منفرد؟
2030 کا ورلڈ کپ اپنی نوعیت کا تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا کیونکہ یہ فیفا ورلڈ کپ کی 100 ویں سالگرہ (Centenary Edition) ہوگا۔ اس کی میزبانی مراکش، اسپین اور پرتگال مشترکہ طور پر کریں گے، جبکہ افتتاحی یادگاری میچز یوراگوئے، ارجنٹائن اور پیراگوئے میں کھیلے جائیں گے۔
مخالفت بھی سامنے آ گئی
اگرچہ فیفا اس تجویز پر غور کر رہی ہے، تاہم بعض فٹ بال حکام اور ماہرین اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ 48 ٹیموں کے نئے فارمیٹ کو ابھی آزمایا بھی نہیں گیا، اس لیے مزید توسیع سے میچوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جائے گی اور مقابلوں کا معیار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
فی الحال 64 ٹیموں کا ورلڈ کپ منظور نہیں ہوا، بلکہ یہ ایک زیرِ غور تجویز ہے، جس پر حتمی فیصلہ فیفا کونسل اور متعلقہ کمیٹیاں آئندہ اجلاسوں میں کریں گ