کینسر کے کیسز میں خطرناک اضافہ، دنیا کا ہر پانچواں شخص زندگی میں متاثر ہو سکتا ہے: عالمی ادارہ صحت

Doctor reviewing cancer awareness ribbon with global health concept
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کینسر کے کیسز میں مسلسل اضافہ تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

جنیوا (اردو ڈیسک نیوز): عالمی ادارہ صحت (WHO) اور کینسر پر تحقیق کے بین الاقوامی ادارے (IARC) نے کینسر سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں کینسر کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو دنیا کا ہر پانچواں شخص اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں کینسر کا شکار ہو سکتا ہے، جبکہ ہر سال لاکھوں افراد اس موذی مرض کے باعث جان کی بازی ہار رہے ہیں۔

ہر سال 2 کروڑ نئے کیسز، ایک کروڑ اموات

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 2 کروڑ (20 ملین) نئے کینسر کیسز سامنے آتے ہیں، جبکہ تقریباً ایک کروڑ افراد اس بیماری کے باعث انتقال کر جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دل کی بیماریوں کے بعد کینسر اب دنیا میں اموات کی دوسری بڑی وجہ بن چکا ہے۔

مرد اور خواتین میں شرح اموات

اعداد و شمار کے مطابق:

  • دنیا بھر میں ہر 9 میں سے ایک مرد کینسر کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
  • خواتین میں ہر 12 میں سے ایک خاتون اس مرض کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص اور جدید علاج سے بہت سے مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے، تاہم کم آمدنی والے ممالک میں سہولیات کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

کینسر کیوں بڑھ رہا ہے؟

رپورٹ میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کی کئی اہم وجوہات بیان کی گئی ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • تمباکو نوشی اور دیگر نشہ آور اشیاء، جو پھیپھڑوں، منہ اور گلے کے کینسر کی بڑی وجہ ہیں۔
  • غیر صحت بخش خوراک، موٹاپا اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی، جو مختلف اقسام کے کینسر کے خطرے میں اضافہ کرتی ہیں۔
  • فضائی آلودگی، جس کے باعث دنیا کی بڑی آبادی مضر صحت ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہے اور کینسر سمیت کئی سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
  • بڑھتی عمر اور آبادی میں اضافہ بھی کینسر کے مجموعی کیسز بڑھنے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی اہم ہدایات

عالمی ادارہ صحت نے حکومتوں اور عوام پر زور دیا ہے کہ کینسر کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ادارے کے مطابق:

  • تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
  • متوازن غذا اپنائی جائے۔
  • روزانہ ورزش اور جسمانی سرگرمی کو معمول بنایا جائے۔
  • غیر ضروری وزن بڑھنے سے بچا جائے۔
  • کینسر کی بروقت اسکریننگ اور ابتدائی تشخیص کو فروغ دیا جائے۔
  • فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے مؤثر پالیسیاں اختیار کی جائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر اور صحت کے نظام کو بہتر نہ بنایا گیا تو آنے والے برسوں میں کینسر کے مریضوں اور اموات کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے