امریکہ کا قرضہ پاکستان سے 700 گنا زیادہ: پھر بھی امریکی معیشت مضبوط کیوں؟

تحریر: محمد عمران حسنی
جب بھی عالمی معیشت کا ذکر ہوتا ہے تو اعداد و شمار اکثر عام آدمی کو الجھن میں ڈال دیتے ہیں۔ بظاہر اگر صرف ہندسوں کی زبان سمجھی جائے تو ایک انتہائی دلچسپ اور حیران کن تصویر سامنے آتی ہے۔ امریکہ کا کل قومی قرضہ 35 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ پاکستان کا کل قومی قرضہ 46 ارب ڈالر کے قریب ہے۔
سادہ حساب لگائیں تو امریکہ کا قرضہ پاکستان کے مقابلے میں 700 گنا سے بھی زیادہ ہے۔ یہیں سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ اگر امریکی سر پر اتنا ہمالیہ جیسا قرضہ سوار ہے تو پھر امریکی معیشت دنیا کی سب سے بڑی معیشت کیسے ہے؟ اور کیا کم قرضے کی بنیاد پر پاکستان کی معاشی حالت امریکہ سے بہتر ہے؟
جواب سادہ لفظوں میں "نہیں۔” اعداد و شمار کا یہ موازنہ بظاہر جتنا سادہ لگتا ہے، معاشی حقیقت میں اتنا ہی مختلف ہے۔
اعداد و شمار کا براہِ راست موازنہ
کسی بھی ملک کی معاشی صحت کا اندازہ صرف اس کے قرضے سے نہیں بلکہ اس کی کل پیداوری صلاحیت (GDP) سے لگایا جاتا ہے۔
قرضہ زیادہ ہونے کے باوجود امریکہ مضبوط کیوں؟
معیشت میں رقم کا حجم اہم نہیں ہوتا بلکہ اس رقم کے پیچھے موجود پشت پناہی اور نظام اہمیت رکھتا ہے۔ امریکہ کا قرضہ سینکڑوں گنا زیادہ ہونے کے باوجود اس کی معیشت دنیا پر حکمرانی کر رہی ہے، جس کی تین بنیادی وجوہات ہیں:
1. "ڈالر” کی عالمی اجارہ داری
امریکہ کا سب سے بڑا معاشی ہتھیار اس کی کرنسی یعنی ڈالر ہے۔ امریکہ کا تمام تر بیرونی و اندرونی قرضہ امریکی ڈالر میں ہی ہے۔ دنیا بھر کی 60 فیصد سے زائد تجارت اور زرمبادلہ کے ذخائر ڈالر میں ہوتے ہیں۔ امریکہ کو جب بھی قرض کی ادائیگی میں دشواری ہو، وہ اپنی کرنسی خود پرنٹ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا بیشتر قرضہ غیر ملکی کرنسی (ڈالر) میں ہے، جسے ادا کرنے کے لیے پاکستان کو برآمدات بڑھانی پڑتی ہیں یا مزید بیرونی قرضہ لینا پڑتا ہے۔
2. کمانے کی صلاحیت اور اعتماد
امریکہ کا قرضہ اس کی جی ڈی پی کے 120 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، لیکن دنیا کے تمام بڑے ممالک، ادارے اور سرمایہ کار اپنے پیسے محفوظ رکھنے کے لیے امریکی حکومت کے بونڈز (US Treasury Bonds) خریدتے ہیں۔ عالمی منڈی کو یہ اعتماد حاصل ہے کہ امریکہ کبھی ہنس کر بھی ڈیفالٹ (Default) نہیں ہو سکتا، اس لیے امریکہ کو بہت کم شرحِ سود پر آسانی سے قرض مل جاتا ہے۔
3. ٹیکس آمدن اور بنیادی ڈھانچہ
پاکستان کی جی ڈی پی کے مقابلے میں قرض کا تناسب (75%) اگرچہ امریکہ سے کم نظر آتا ہے، لیکن پاکستان کا بنیادی مسئلہ ٹیکس کی کم وصولی اور کمزور برآمدات ہیں۔ پاکستان کی سالانہ آمدن اتنی کم ہے کہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ صرف پرانے قرضوں کا سود ادا کرنے میں چلا جاتا ہے، جبکہ امریکی معیشت اپنی بے پناہ پیداوری صلاحیت کی وجہ سے اپنے قرض کی اقساط باقاعدگی سے ادا کرتی رہتی ہے۔
نچوڑ
صرف اعداد و شمار دیکھ کر یہ سمجھنا کہ کم قرضے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت امریکہ سے بہتر ہے، بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی چھوٹے دکاندار کا موازنہ کسی عالمی ملٹی نیشنل کمپنی سے کیا جائے۔ ملٹی نیشنل کمپنی پر بینک کا کروڑوں کا قرضہ ہو سکتا ہے لیکن اس کا روزانہ کا کاروبار اربوں میں ہوتا ہے، جبکہ ایک چھوٹا دکاندار ہزاروں کے قرضے کے نیچے بھی دب سکتا ہے۔
قرضہ بذاتِ خود برائی نہیں ہوتا، اگر اسے ملک میں بنیادی ڈھانچے، صنعتوں اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے۔ امریکہ نے قرضے سے اپنی معاشی طاقت کو بڑھایا، جبکہ پاکستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے قرضوں کا صحیح استعمال کرے اور اپنی برآمدات میں اضافہ کرے۔
