ایران جنگ کے 100 دن: کیا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے تزویراتی بحران میں داخل ہو چکا ہے؟

تحریر: کالم نگار
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو سو دن مکمل ہو چکے ہیں۔ جب فروری 2026 کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کیا تو کئی مبصرین کا خیال تھا کہ جدید ٹیکنالوجی، فضائی برتری اور معاشی دباؤ کے ذریعے تہران کو جلد مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے گا۔ تاہم سو دن بعد صورت حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ جنگ نہ صرف طول پکڑ چکی ہے بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ کا آغاز اکثر منصوبوں کے مطابق ہوتا ہے، لیکن اس کا اختتام شاذ و نادر ہی منصوبہ سازوں کی خواہشات کے مطابق ہوتا ہے۔ ویتنام، عراق اور افغانستان کے تجربات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ عسکری طاقت کسی تنازع کو شروع تو کر سکتی ہے، مگر پائیدار سیاسی حل فراہم نہیں کر سکتی۔ آج ایران کے خلاف جاری مہم بھی اسی بنیادی سوال کو جنم دے رہی ہے کہ کیا صرف فوجی دباؤ کے ذریعے کسی ریاست کو اپنے تزویراتی اہداف ترک کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟
جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایران کے جوہری اور فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، لیکن تہران نے اپنی میزائل صلاحیت، علاقائی اتحادیوں اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ وہ مکمل طور پر بے بس نہیں ہوا۔ حالیہ ہفتوں میں لبنان کے محاذ پر کشیدگی میں اضافہ اور ایران و اسرائیل کے درمیان براہ راست میزائل حملوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ تنازع ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔
اس جنگ کا دوسرا اہم پہلو عالمی معیشت ہے۔ خلیج کے آبی راستے، خصوصاً تنگۂ ہرمز، دنیا کی توانائی سپلائی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ جنگ کے دوران اس علاقے میں کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو مسلسل بے یقینی میں مبتلا رکھا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، شپنگ انشورنس کے بڑھتے اخراجات اور سرمایہ کاروں کی تشویش نے عالمی معیشت پر اضافی دباؤ پیدا کیا ہے۔ متعدد تحقیقی اور پالیسی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ تنگۂ ہرمز اس جنگ کا مرکزی جغرافیائی اور اقتصادی نقطہ بن چکا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کو بھی ایک پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے۔ واشنگٹن کی توجہ گزشتہ چند برسوں سے بحرالکاہل اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر مرکوز تھی، لیکن ایران جنگ نے اسے دوبارہ مشرقِ وسطیٰ میں گہرائی تک الجھا دیا ہے۔ بعض تزویراتی ماہرین اس صورتحال کو ایک ’’اسٹریٹجک ٹریپ‘‘ یا تزویراتی جال قرار دے رہے ہیں، جہاں جنگ کے اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ فیصلہ کن کامیابی ابھی تک حاصل نہیں ہو سکی۔
اس تمام منظرنامے میں سفارت کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پاکستان، قطر، ترکیہ اور مصر سمیت کئی ممالک جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے مختلف سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان کا نام بھی ان ممالک میں شامل ہے جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اگرچہ ان کوششوں کی کامیابی کا انحصار فریقین کی سیاسی آمادگی پر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سو دن کی جنگ کے بعد بھی کوئی فریق مکمل فتح کے قریب دکھائی نہیں دیتا۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا چاہتے ہیں، جبکہ ایران اپنی بقا، دفاعی صلاحیت اور علاقائی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ دونوں فریقوں کے اہداف ایک دوسرے سے متصادم ہیں، جس کی وجہ سے مذاکرات کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔
سب سے افسوسناک پہلو انسانی نقصان ہے۔ جنگوں میں فتح اور شکست کے سیاسی مباحث اپنی جگہ، مگر عام شہری ہمیشہ سب سے زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔ تباہ شدہ انفراسٹرکچر، بے گھر خاندان، معاشی بدحالی اور نفسیاتی اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ذمہ دار حلقے اب اس تنازع کے فوجی نہیں بلکہ سیاسی حل پر زور دے رہے ہیں۔
سو دن بعد سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا فریقین مزید تصادم کا راستہ اختیار کریں گے یا مذاکرات کی طرف لوٹیں گے؟ اگر تاریخ سے کوئی سبق لیا جا سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ فیصلہ بروقت کیا جاتا ہے یا ہزاروں مزید جانوں اور اربوں ڈالر کے نقصان کے بعد۔
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ آنے والے دن نہ صرف ایران، امریکہ اور اسرائیل بلکہ پوری عالمی سیاست اور معیشت کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
