لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی شدید متاثر، 60 فیصد مریض سہولت سے محروم

پاکستان کے سرکاری ہسپتال میں خالی ریکس اور پریشان مریض، لاہور ادویات کی قلت کا منظر
لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی 60 فیصد تک معطل، مریض بازار سے ادویات خریدنے پر مجبور۔

لاہور (خصوصی رپورٹر): صوبائی دارالحکومت لاہور کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں غریب اور نادار مریضوں کو فراہم کی جانے والی مفت ادویات اور طبی سہولیات کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کا سلسلہ تقریباً 60 فیصد تک معطل ہو چکا ہے، جبکہ جان بچانے والی ضروری ادویات کی عدم دستیابی کے باعث 80 فیصد مریض بازاری ادویات اور مہنگے تشخیصی ٹیسٹوں کا بوجھ خود اٹھانے پر مجبور ہیں۔

مریضوں کا معاشی استحصال اور انتظامی پالیسی لاہور کے نگران و ٹیچنگ ہسپتالوں—جن میں میو ہسپتال، سر گنگارام، جنرل ہسپتال، سروسز، جناح، چلڈرن، شاہدرہ ہسپتال اور دیگر ڈی ایچ کیو و ٹی ایچ کیو ہسپتال شامل ہیں—کی ایمرجنسی اور آؤٹ ڈور (OPD) میں روزانہ ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد مریض علاج کے لیے رجوع کرتے ہیں۔ تاہم، ادویات کی شارٹیج کے باعث اکثریت کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا ہے۔

محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق، ہسپتالوں کے ڈسپلے بورڈز پر موجود کمپیوٹرائزڈ فہرستوں میں بھی معمول کی ادویات کی شدید کمی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ قواعد کے تحت اگرچہ معالج کو مریض کی سنگین حالت کے پیش نظر باہر سے دوا تجویز کرنے کی جزوی اجازت حاصل ہے، لیکن حکومت یا ہسپتال انتظامیہ اس کی خریداری کا مالی بوجھ اٹھانے سے صاف انکاری ہے۔ تمام تر اخراجات براہِ راست مریض کی جیب سے جا رہے ہیں۔

ینگ ڈاکٹرز کی ہجرت اور محکمہ صحت کا رویہ ادویات کی قِلّت اور ابتر انتظامی صورتحال کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت کے سخت گیر رویے نے طبی شعبے کو ایک اور بڑے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ نامساعد حالات اور پیشہ ورانہ عدم تحفظ کی وجہ سے ینگ ڈاکٹرز کی بڑی تعداد ملک چھوڑنے پر مجبور ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، سالانہ 5 فیصد تجربہ کار اور ینگ ڈاکٹرز بیرونِ ملک جا کر خدمات سرانجام دینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

طبی حلقوں اور عوامی سوسائٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کے "صحت عامہ کی بلا معاوضہ فراہمی” کے تمام دعوے اور ویژن محض کاغذات تک محدود ہو چکے ہیں، جبکہ عملی طور پر عام شہری بنیادی علاج معالجے کی سہولیات سے بھی محروم ہوتا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے