کائنات میں زمین جیسے ایک اور سیارے کی دریافت؛ قرآنی نظریات کی سائنسی تصدیق

لاہور (ویب ڈیسک): کائنات کی وسعتوں میں زمین سے باہر زندگی کی تلاش میں مصروف سائنسدانوں کو ایک سنسنی خیز اور انقلابی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جس نے قرآنِ پاک کی چودہ سو سال قبل بیان کردہ سچائیوں پر ایک بار پھر تصدیق کی مہر ثبت کر دی ہے۔ امریکی ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے سائنسی آلات اور جدید ترین تحقیق کے ذریعے دعویٰ کیا ہے کہ زمین سے 39 نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک منفرد سیارے پر ممکنہ حد تک زمین جیسا ماحول، سازگار آب و ہوا، موزوں درجہ حرارت اور پانی کی موجودگی کے قوی شواہد پائے گئے ہیں۔
قرآنِ پاک کی سورہ الشوریٰ کی آیتِ مبارکہ کی سائنسی تصدیق
اس سائنسی دریافت نے قرآنِ کریم کے اس نظریے کو درست ثابت کر دیا ہے جس میں زمین سے باہر زندگی کے وجود کا تذکرہ ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشوریٰ کی آیت نمبر 29 میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ کائنات میں پھیلی زمینوں (سیاروں) پر مختلف جانور اور جاندار بستے ہیں۔ سائنسی ماہرین کی یہ نئی تحقیق اسی قرآنی سچائی کی تائید کرتی ہے کہ زمین کے علاوہ بھی کائنات میں ایسی جگہیں موجود ہیں جہاں زندگی رواں دواں ہو سکتی ہے۔
سیارہ "LHS 1140b” کی خصوصیات اور ماحول
ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق اس نئے دریافت شدہ سیارے کا نام "LHS 1140b” ہے۔ اس سیارے کی اہم ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:
حجم اور ساخت: یہ سیارہ حجم میں ہماری زمین سے ساڑھے پانچ گنا بڑا ہے۔
نظامِ شمسی: یہ سیارہ ہمارے سورج کے مقابلے میں ایک نسبتاً چھوٹے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے۔
پانی کی فروانی: ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس سیارے پر ہماری زمین کے مقابلے میں ممکنہ طور پر زیادہ پانی موجود ہو سکتا ہے، اور اس پانی میں زندگی کی کوئی نہ کوئی شکل بستی ہو سکتی ہے۔
انسانی نسل کی بقا کا مستقبل
سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں انسانی نسل کی بقا کے لیے ایک بڑی خوش خبری ثابت ہو سکتی ہے۔ سائنسی اندازوں کے مطابق، اب سے تقریباً دو ارب سال بعد ہمارا سورج پھیل کر زمین کو نگل لے گا، جس سے یہاں زندگی کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ اس حتمی تباہی (قیامت) سے قبل اگر انسان "LHS 1140b” جیسے زمین سے ملتے جلتے سیاروں تک رسائی حاصل کرنے اور وہاں منتقل ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو وہ اپنی نسل کو بچا سکے گا؛ بصورتِ دیگر انسانی تاریخ اور ہماری یہ خوبصورت دنیا ہمیشہ کے لیے قصہء ماضی بن جائے گی۔