اقتدار کا مزہ اور ناکامی کا نوحہ: محسن نقوی کا سسٹم پر حملہ، یا اپنی ناہلی کا اعتراف؟

محسن نقوی پریس کانفرنس کے دوران دفتر میں تشویشناک انداز میں بیٹھے ہوئے
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا سسٹم کی ناکامی کا اعتراف اور زیرِ بحث سیاسی صورتحال۔

محمد عمران حسنی

پاکستان کی سیاسی تاریخ بے حسی، اقتدار پرستی اور تماشوں سے بھری پڑی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں جو تماشا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لگایا ہے، اس نے بے حسی اور منافقت کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ملک کے سب سے حساس ترین عہدوں پر براجمان شخص—جو بیک وقت وزارتِ داخلہ کی چابی، سینیٹ کی نشست اور پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی چئیرمین کی مسند پر قابض ہے—مائیک پر آ کر فرما رہا ہے کہ "جس سسٹم میں ہم رہ رہے ہیں، وہ ناکام (Collapse) ہو چکا ہے”۔

یہ بیان کوئی سادہ اعترافِ حقیقت نہیں، بلکہ اس ملک کے ۲۵ کروڑ عوام کے زخموں پر نمک پاشی اور ان کی ذہانت کا شدید تمسخر ہے۔ موصوف سے کوئی پوچھے کہ جس سسٹم کی ناکامی کا ماتم آپ کر رہے ہیں، پچھلے چار پانچ سالوں سے اس کے اصل ڈرائیور اور فائدے اٹھانے والے تو آپ خود ہیں! پنجاب کی نگران وزارتِ اعلیٰ کی لمبی ترین باری سے لے کر وفاق کی اعلیٰ ترین مسندوں تک—ہر جگہ آپ کو تمام قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بٹھایا گیا۔ اگر اتنے لامحدود اختیارات، پروٹوکولز اور اداروں کی مسلسل پشت پناہی کے باوجود بھی نظام ناکام ہے، تو پھر اس ناکامی کے سب سے بڑے مجرم اور قصوروار آپ خود ہیں!

اس پورے کھیل کی سب سے تلخ اور بھیانک سچائی یہ ہے کہ محسن نقوی کسی سچے اور کھلے عوامی ووٹ سے منتخب ہو کر اقتدار کی مسند پر نہیں بیٹھائے گئے۔ وہ عوام کے نمائندے ہیں ہی نہیں، بلکہ وہ ان ‘نادیدہ قوتوں’ اور اسٹیبلشمنٹ کا محض ایک مہرہ ہیں، جنہیں جمہوری عمل کو بائی پاس کر کے فرنٹ پر لایا گیا۔ اس ملک کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ بن چکا ہے کہ جن سیاستدانوں نے گلی محلوں اور سڑکوں کی سیاست کی، انہیں رگیدنے، بے بس کرنے اور نیچا دکھانے کے لیے ایسے غیر منتخب چہروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ نام نہاد "ٹیکنوکریٹس” اور بٹھائے گئے مہرے بغیر کسی عوامی جواب دہی (Public Accountability) کے ملک کے فیصلے کرتے ہیں، اور جب ان کی اپنی ناہلی اور ناکامی کھل کر سامنے آتی ہے، تو وہ سارا ملبہ اسی جمہوریت اور سیاستدانوں پر ڈال کر سائیڈ پر ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

دنیا کے کسی بھی تہذیب یافتہ یا جمہوری ملک میں اگر کوئی وزیر یہ مان لے کہ اس کا سسٹم فلاپ ہو چکا ہے اور وہ امن و امان یا گورننس دینے میں مکمل طور پر بے بس ہے، تو اخلاقی تقاضا یہی ہوتا ہے کہ وہ شرم کے مارے فوری طور پر استعفیٰ دے کر گھر چلا جائے۔ مگر یہاں عجیب ہٹ دھرمی ہے؛ اقتدار کی شاہانہ مراعات، پروٹوکولز اور اختیارات کا ہما سر سے اترنے نہیں دیا جائے گا، لیکن جب ملک کے کونے کونے میں آگ لگی ہو، بلوچستان سے لے کر خیبر پختونخوا تک امن و امان کی دھجیاں اڑ رہی ہوں، تو موصوف ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے افلاطون بن کر لیکچر دینے لگ جاتے ہیں۔

یہ حکمتِ عملی دراصل اپنی کھلی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی ایک چالاکانہ کوشش ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ جب اپنی کارکردگی کا حساب دینے کا وقت آئے، تو ایک بے نام اور غیر مرئی "سسٹم” کا رونا  رو کر خود کو دودھ کا دھلا ثابت کر دیا جائے۔

اگر عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آنے والے نمائندے سے کوئی غلطی ہو، تو عوام کے پاس اسے الیکشن میں مسترد کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ لیکن اس غیر منتخب شخص کا محاسبہ کون کرے گا جسے نہ تو ووٹ ختم ہونے کا ڈر ہے اور نہ ہی عوامی عدالت کا خوف؟

محسن نقوی صاحب! عوام اب اتنے نادان نہیں رہے کہ آپ کے اس بیانیے کو آپ کی "بے باکی” یا "اصلاح پسندی” سمجھیں۔ اقتدار کا پورا لطف اٹھاتے ہوئے اسی اقتدار کے نظام کو کوسنا اور لیکچر دینا، منافقت کی اخلاقی حدوں کو پار کرنا ہے۔ اگر آپ میں ذرا سی بھی اخلاقی جرات اور شرم باقی ہے، تو افلاطونی لیکچر دینا بند کیجیے، اپنی ناہلی کا اعتراف کیجیے اور فوری طور پر تمام عہدوں سے استعفیٰ دے کر گھر تشریف لے جائیں—کیونکہ اس زخمی ملک کو اب "غیر منتخب لیکچر بازوں” کی نہیں، بلکہ کارکردگی اور جواب دہی کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے