پاک افغان تعلقات: یقین دہانیوں کے سراب اور حقائق کی تلخی

پاک افغان سرحد پر باڑ، پہاڑی سلسلہ اور دراڑ جو دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اور سیکیورٹی تناؤ کو ظاہر کرتی ہے۔
پاک افغان تعلقات: یقین دہانیوں کے سراب اور زمینی حقائق کی تلخی
تحریر: محمد عمران حسنی

اسلام آباد اور کابل کے درمیان جاری سفارتی کھینچ تان اور سیکیورٹی خدشات محض دو ہمسایہ ممالک کا سرحدی تنازع نہیں، بلکہ یہ خطے کے امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف جاری طویل جنگ کا ایک حساس ترین موڑ ہے۔ حالیہ دنوں میں افغان طالبان کے امیر ملا ہبتہ اللہ اخوندزادہ کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو دی جانے والی مبینہ وارننگ اور اس پر پاکستان کا باضابطہ ردعمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کی خلیج کس قدر گہری ہو چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق، طالبان حکومت نے غیر رسمی ذرائع سے اسلام آباد تک یہ پیغام پہنچایا ہے کہ ان کے سپریم لیڈر نے ٹی ٹی پی کو پاکستان کے اندر حملے فوری طور پر روکنے کی سخت تنبیہ کی ہے، اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں طالبان کی ‘وفاداری اور حمایت’ سے محروم ہونے کا ڈراوا بھی دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑی پیش رفت معلوم ہوتی ہے، لیکن اسلام آباد کے پالیسی ساز حلقوں میں اس پیغام کو محض ایک سفارتی چال اور بین الاقوامی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش سے زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔ پاکستان نے اس اقدام کو دوٹوک انداز میں "ناکافی” اور زمین پر کسی بھی حقیقی تبدیلی سے عاری قرار دیا ہے۔

وعدے اور زمینی حقائق کا تضاد

پاکستان کے اس سخت موقف کی بنیادی وجہ وہ تلخ تجربات ہیں جو گزشتہ تین برسوں کے دوران بارہا سامنے آئے ہیں۔ کابل میں طالبان حکومت کے قیام کے وقت یہ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ افغان سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ محض خوش فہمی تھی۔ ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار کے مطابق، کابل کی جانب سے بارہا یقین دہانیوں کے باوجود افغان سر زمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس نہ صرف سرگرم ہیں، بلکہ ان نیٹ ورکس میں افغان شہریوں کی بھرتی کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔

مسئلہ اب زبانی کلامی وعدوں یا غیر رسمی پیغامات کا نہیں رہا، بلکہ ‘قابلِ تصدیق کارروائی’ کا ہے۔ جب تک افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں اور ان کی سپلائی لائن کے خلاف ٹھوس اور نظر آنے والے اقدامات نہیں کیے جاتے، تب تک ایسی کسی بھی یقین دہانی کو محض ‘وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی’ ہی تصور کیا جائے گا۔

چین کا کردار اور ارومچی مذاکرات

اس بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سفارتی تعطل کو توڑنے کے لیے پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اپریل کے پہلے ہفتے میں چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغان طالبان کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک ہفتہ طویل تفصیلی بات چیت ہوئی۔ بیجنگ نے اگرچہ ان مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا، لیکن اس کا کوئی مادی نتیجہ اس لیے برآمد نہ ہو سکا کیونکہ ان روابط کے دوران اور ان کے فوراً بعد بھی پاکستان کو مسلسل دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

حال ہی میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے بعد جاری ہونے والے پاک چین مشترکہ اعلامیے میں بھی اس تشویش کا واضح اظہار کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے کابل پر زور دیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے خلاف فیصلہ کن اور بلاامتیاز کارروائی کرے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان سر زمین سے ابھرنے والے خطرات پر اب نہ صرف پاکستان بلکہ چین کو بھی شدید تحفظات ہیں۔

بداعتمادی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں گزشتہ چند ماہ کے دوران غیر معمولی تلخی دیکھی گئی ہے۔ سرحد پر فوجی تصادم، تجارتی راستوں کی بندش اور پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کی جانے والی ٹارگٹڈ کارروائیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ پاکستان کی صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ کابل کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ وہ بین الاقوامی برادری سے تنہائی ختم کرنے اور پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو بحال کرنے کا خواب اس وقت تک پورا نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنے جیو پولیٹیکل وعدوں کو پورا نہیں کرتا۔

حاصلِ کلام

پاکستان آج بھی مذاکرات اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے، اور سیکیورٹی خدشات کے باوجود کابل کے ساتھ روابط کے اگلے دور کے لیے تیار ہے۔ تاہم، اب گیند افغان طالبان کے کورٹ میں ہے۔ انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے سپریم لیڈر کے احکامات صرف کاغذات یا غیر رسمی پیغامات تک محدود نہیں، بلکہ وہ افغان سرزمین کو پاک سرزمین کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی حقیقی طاقت اور ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ جب تک وعدوں اور عمل کا یہ تضاد ختم نہیں ہوتا، پاک افغان تعلقات میں کسی معنی خیز بہتری کی امید رکھنا عبث ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے