تعلیم کے گمنام سپاہی اور سرکاری بے حسی کی داستان

An empty classroom of a small private school in Pakistan with a blackboard, representing the educational crisis.
حکومتی پالیسیاں چھوٹے پرائیویٹ سکولوں کو ڈبو رہی ہیں

آج کا کالم: کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ کے محلے کی گلی میں واقع وہ چھوٹا سا پرائیویٹ سکول اچانک بند ہو جائے، تو وہاں پڑھنے والے سو پچاس بچے کہاں جائیں گے؟ کیا وہ بحریہ ٹاؤن یا ڈیفنس کے چمکتے دمکتے، لاکھوں روپے فیس مانگنے والے انٹرنیشنل سکولوں کا رخ کریں گے؟ یا وہ قریبی خستہ حال سرکاری سکول میں جائیں گے جہاں پہلے ہی دو دو سو بچے ایک ایک کلاس روم میں ٹھسے ہوئے ہیں؟

جواب ہم سب جانتے ہیں: وہ بچے سکول نہیں، بلکہ کسی ورکشاپ، چائے کے ہوٹل یا کسی گھر میں مزدوری کرنے چلے جائیں گے۔

ہمارے ملک میں ایک عجیب رواج چل نکلا ہے۔ ہر دوسرا شخص منہ اٹھا کر "پرائیویٹ سکول مافیا” کی گردان شروع کر دیتا ہے۔ ٹی وی ٹاک شوز ہوں یا سوشل میڈیا کی دیواریں، نجی سکولوں کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی لٹیرے ہوں۔ لیکن کوئی بھی اس حقیقت پر غور نہیں کرتا کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں نہیں ہوتا۔ چند بڑے تجارتی برانڈز کی آڑ میں ان لاکھوں چھوٹے، گلی محلوں کے سکولوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے جو مافیا نہیں، بلکہ اس ملک میں تعلیم کے اصل پاسبان ہیں۔

۵۰۰ روپے میں مستقبل کی تعمیر: ایک معجزہ

کچھ دن پہلے ایک چھوٹے سے پرائیویٹ سکول کے پرنسپل سے بات ہوئی۔ چہرے پر تھکن تھی لیکن آنکھوں میں ایک عجیب سا عزم تھا۔ جب میں نے ان سے حالات کا پوچھا تو وہ تلخی سے ہنسے اور کہنے لگے:

"بھائی! لوگ ہمیں مافیا کہتے ہیں، لیکن ہم تو آج کے دور میں بھی ۵۰۰ روپے ماہانہ فیس لے کر بچہ پڑھا رہے ہیں۔”

یہ جملہ سن کر میں دنگ رہ گیا۔ ۵۰۰ روپے! آج کے پاکستان میں ۵۰۰ روپے کی کیا اوقات ہے؟ ایک کلو پیاز، کچھ ٹماٹر یا ایک وقت کا واجبی سا کھانا۔ لیکن یہ گمنام سپاہی اس ۵۰۰ روپے میں ایک بچے کو مہینہ بھر کلاس روم فراہم کرتے ہیں، تپتی گرمی میں بجلی اور پنکھے کا انتظام کرتے ہیں، پینے کا صاف پانی دیتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اسے شعور کی دولت سے مالا مال کرتے ہیں۔ یہ کاروبار نہیں ہے صاحب، یہ خالصتاً ایک جنون ہے، ایک جہاد ہے جو یہ سفید پوش اساتذہ اور پرنسپلز روزانہ لڑ رہے ہیں۔

سرپرستی کے بجائے مشکلات کا شکار

ریاست کا کام تو یہ تھا کہ وہ ان اداروں کے آگے ہاتھ جوڑتی، ان کی پیٹھ تھپتھپاتی کہ "جو کام ہمارا تھا، وہ تم کر رہے ہو”۔ لیکن یہاں ریاست ان کے لیے سرپرست بننے کے بجائے ایک کڑی آزمائش بن چکی ہے۔

  • ٹیکسز کا بوجھ: رجسٹریشن کی بھاری فیسیں اور سالانہ تجدید کے نام پر سرکاری محکموں کے چکر۔

  • کمرشل بلز کا عذاب: ان چھوٹے سکولوں سے بجلی اور پانی کا بل اسی ریٹ پر لیا جاتا ہے جس ریٹ پر کوئی بڑی فیکٹری یا شاپنگ مال بل دیتا ہے۔

  • بے لچک پالیسیاں: ہر دوسرے دن ایک نیا قانون، نیا نصاب اور نئی این او سی (NOC) کی شرط۔

ان سخت پالیسیوں اور کمر توڑ مہنگائی کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ روزانہ ملک بھر میں درجنوں چھوٹے سکول چپ چاپ تالے لگا رہے ہیں۔ یہ سکول نہیں بند ہو رہے، یہ پاکستان کے غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کا مستقبل اندھیرے میں دھکیلا جا رہا ہے۔

وقت کی پکار: اب تو جاگ جائیے!

اگر حکومت واقعی ملک سے جہالت کا خاتمہ چاہتی ہے، تو اسے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔

  1. درجہ بندی کی جائے: ۵۰۰ سے ۲ ہزار روپے فیس لینے والے سکولوں کو کمرشل اداروں کی فہرست سے نکالا جائے اور انہیں ہر قسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے۔

  2. بلوں میں رعایت: تعلیمی اداروں کو بجلی کے بلوں میں خصوصی ریلیف دیا جائے تاکہ وہ اپنا وجود برقرار رکھ سکیں۔

  3. سرکاری سرپرستی: ان چھوٹے سکولوں کو بند کرنے کے بجائے ایجوکیشن فاؤنڈیشنز کے ذریعے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے تاکہ یہ اپنے معیار کو مزید بہتر کر سکیں۔

ان چھوٹے تعلیمی اداروں پر تنقید کرنے والوں اور ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر پالیسیاں بنانے والوں کو شرم آنی چاہیے۔ یہ سکول بند ہو گئے تو سرکاری نظام کبھی اس خلا کو پُر نہیں کر پائے گا۔ یہ دیے بجھ گئے، تو اندھیرا ہمارا مقدر بن جائے گا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا گلی محلوں کے یہ چھوٹے سکول واقعی ہمارے تعلیمی نظام کی لائف لائن ہیں؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں ضرور کریں اور اس آواز کو آگے بڑھانے کے لیے پوسٹ کو شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے