مری ایکسپریس وے حادثہ نیا رخ اختیار کر گیا؛ بچوں کے گانے بند کروانے پر ڈرائیور نے گاڑی دیوار سے ٹکرا دی

مری (ویب ڈیسک): مری ایکسپریس وے پر ملتان کے ایک ہی خاندان کے 10 افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والا المناک حادثہ ایک نیا اور انتہائی سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ حادثے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہنے والے متاثرہ شخص نے ڈرائیور پر جان بوجھ کر گاڑی دیوار سے ٹکرانے کا لرزہ خیز الزام عائد کر دیا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، مری ایکسپریس وے کے علاقے ‘کھجٹ’ کے مقام پر ملتان سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی کی گاڑی کو خوفناک حادثہ پیش آیا تھا۔ اس افسوسناک واقعے میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے، جن میں کاشف نامی شخص کی بوڑھی والدہ، اہلیہ اور 5 معصوم بچے بھی شامل تھے۔
تلخ کلامی اور حادثے کی مبینہ وجہ
متاثرہ شخص کاشف نے اپنے تازہ بیان میں واقعے کی اصل وجہ بتاتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ کاشف کا کہنا ہے کہ:
"سفر کے دوران گاڑی کے ڈرائیور نے انتہائی اونچی آواز میں گانے چلا رکھے تھے۔ گاڑی میں موجود بچوں نے جب ڈرائیور کو آواز دھیمی کرنے یا گانے بند کرنے کا کہا، تو ڈرائیور آپے سے باہر ہو گیا اور بچوں کے ساتھ بدتمیزی اور تلخ کلامی شروع کر دی۔”
کاشف نے مزید الزام لگایا کہ اسی تکرار اور جھگڑے کے دوران ڈرائیور شدید غصے کی حالت میں آگیا اور اس نے مبینہ طور پر تیز رفتار گاڑی کو جان بوجھ کر سڑک کنارے لگی دیوار سے دے مارا، جس کے نتیجے میں پورا ہنستا کھیلتا خاندان سیکنڈوں میں اجڑ گیا۔
انتظامیہ کی تحقیقات کا آغاز
اس ہولناک انکشاف اور متاثرہ خاندان کے سربراہ کے بیان کے بعد قانون نافذ کرنے والے اور متعلقہ تحقیقاتی ادارے متحرک ہو گئے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش کو اب روایتی حادثے کے بجائے اس نئے پہلو سے بھی دیکھا جا رہا ہے اور ڈرائیور کے اس مبینہ اقدام کی تمام تکنیکی اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب اس خبر کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کر رہی ہے، اور پبلک ٹرانسپورٹ و رینٹل گاڑیوں کے ڈرائیورز کی ذہنی تربیت اور فٹنس ٹیسٹ کے حوالے سے سخت قوانین بنانے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔
