امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہو گیا

اسلام آباد/تہران/واشنگٹن (ویب ڈیسک): دنیا بھر میں جاری شدید کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک بڑی اور تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور اہم مذاکرات کے بعد بالآخر امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس پر باضابطہ دستخط کی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔ وزیر اعظم شہباز شریف سمیت عالمی رہنماؤں نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
تمام محاذوں پر عسکری کارروائیاں بند، امریکی بحری ناکہ بندی ختم
معاہدے کے تحت دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر فوجی کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی اب مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد دنیا بھر کے تجارتی جہازوں اور تیل کی نقل و حمل کے لیے راستے کھل گئے ہیں۔
بیروت پر اسرائیلی حملہ اور حزب اللہ کا جواب
امن معاہدے پر دستخط کی تقریب سے چند گھنٹے قبل اسرائیل کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اچانک حملہ کیا گیا، جس میں 3 افراد شہید اور 7 زخمی ہوئے۔ اس حملے کے باعث دستخط کی تقریب کچھ گھنٹوں کے لیے تاخیر کا شکار ہوئی۔ جوابی کارروائی میں حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر تین راکٹ فائر کیے۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیروت پر اسرائیلی حملے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ محض بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے اور اس سے امن معاہدے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
عالمی ردعمل اور ایرانی مؤقف
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بیروت پر حملے کے باوجود امن معاہدے کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ قومی مفادات اور ملکی خود مختاری کا تحفظ ایران کی بنیادی ترجیح رہے گی۔ دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوتین نے معاہدے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، جبکہ برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر اور قطر کے وفد نے بھی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔
تہران میں ملا جلا ردعمل اور احتجاج
اس تاریخی معاہدے پر ایران کے اندرونی حلقوں میں ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تہران میں وزارتِ خارجہ کے باہر بعض مظاہرین نے معاہدے کے خلاف احتجاج کیا اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کے خلاف نعرے بازی کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے صورتحال کو کنٹرول میں رکھا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، معاہدے کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر 19 جون کو اس معاہدے پر کامیابی سے دستخط ہو جاتے ہیں، تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی تجارت کے لیے ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند موڑ ثابت ہوگا۔
